پہلی جنگ عظیم سے قبل کے تمام کیمیائی ہتھیار تباہ کرنے کا امریکی اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

مشرقی کینٹکی کی سرسبز پہاڑیوں کے درمیان میں ایک وسیع وعریض فوجی تنصیب واقع ہے، جہاں پہلی جنگ عظیم سے شروع ہونے والی جنگی تاریخ ایک سنگ میل عبور کرنے والی ہے۔

بلیو گراس آرمی ڈپو کے کارکنان GB اعصابی ایجنٹ سے بھرے راکٹوں کو عنقریب تباہ کرنے والے ہیں جو کہ ریاست ہائے متحدہ کے ظاہر کردہ کیمیائی ہتھیاروں میں سب سے آخری ہیں۔ سرد جنگ کے اختتام تک ہتھیاروں کا یہ ذخیرہ کل 30,000 ٹن سے زیادہ تھا جس کے خاتمے کی مہم عشروں سے جاری تھی اور اب مکمل ہونے والی ہے۔

ہتھیاروں کی تباہی رچمنڈ، کینٹکی اور پیوبلو، کولوراڈو کے لیے ایک بڑا واٹرشیڈ ہے، جہاں گزشتہ ماہ ایک آرمی ڈپو نے اپنے آخری کیمیائی ایجنٹوں کو تباہ کرکے ختم دیا تھا۔ دنیا بھر میں ہتھیاروں پر قابو پانے کی کوششوں کے حوالے سے بھی یہ لمحہ نہایت اہمیت کا حامل ہے۔

کیمیائی ہتھیاروں کے بین الاقوامی کنونشن کے تحت امریکہ کو اپنے باقی ماندہ کیمیائی ہتھیاروں کو خاتمے کے لیے 30 ستمبر کی ڈیڈ لائن کا سامنا ہے۔ مذکورہ کنونشن 1997 میں نافذ ہوا اور 193 ممالک اس میں شامل ہوئے تھے۔ کینٹکی میں عنقریب جو گولہ بارود تباہ ہونے والا ہے، وہ GB اعصابی ایجنٹ والے 51,000 ایم فائیو فائیو راکٹوں میں سب سے آخری ہے۔ جی بی اعصابی ایجنٹ ایک مہلک زہر جسے سارین بھی کہا جاتا ہے۔ یہ 1940 کے عشرے سے ہتھیاروں کے ڈپو میں محفوظ ہے۔

فوجی ماہرین کے مطابق جنگی ساز وسامان کو تباہ کر کے امریکہ باضابطہ طور پر اس بات پر زور دے رہا ہے کہ اس نوعیت کے ہتھیار اب میدان جنگ میں قابل قبول نہیں اور یہ ان مٹھی بھر ممالک کے لئے پیغام ہے جو اس معاہدے میں شریک نہیں ہوئے ہیں۔

پیوبلو کیمیکل ایجنٹ-ڈسٹرکشن پائلٹ پلانٹ کے مینیجر، کم جیکسن کے بہ قول: "ہمارے لیے واقعی ایک قابلِ فخر بات یہ ہے کہ ہم مشن کو کیسے مکمل کر رہے ہیں۔ ہم اسے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے لیے ہمیشہ کے لیےختم کر رہے ہیں۔"

کیمیائی ہتھیاروں کا اولین استعمال جنگ عظیم اول میں جدید جنگ میں کیا گیا تھا، جس سے ایک اندازے کے مطابق کم از کم 100,000 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

بعد ازاں جنیوا کنونشن کی طرف سے ان کے استعمال پر پابندی لگنے کے باوجود، ممالک نے ان ہتھیاروں کو ذخیرہ کرنے کا عمل جاری رکھا جب تک کہ ان کی تباہی کا معاہدہ نہ ہو گیا۔

جنوبی کولوراڈو میں آرمی پیوبلو کیمیکل ڈپو کے کارکنان نے 2016 میں ہتھیاروں کو تباہ کرنا شروع کر دیا تھا اور 22 جون کو mustard blister ایجنٹ کے پورے ذخیرہ کو غیر مؤثر کرنے کا مشن مکمل کرلیا جو تقریباً 2,600 ٹن تھا۔

پروجیکٹائل اور مارٹر ملک کے 30,610 ٹن ایجنٹ کے اصل کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیرے کا تقریباً 8.5 فیصد پر مشتمل تھے۔ مسٹرڈ ایجنٹ پر مشتمل تقریباً 800,000 کیمیائی گولہ بارود 1950 کے عشرے سے محفوظ شدہ تھے۔ یہ کنکریٹ اور مٹی کے مورچوں کی تہہ در تہہ قطاروں کے اندر محفوظ کیے گئے تھے جو پیوبلو کے مشرق میں کاشتکاری کے ایک وسیع حصے کے قریب زمین کی گہرائی میں تھے۔

ہتھیاروں کی تباہی سے اس تشویش کا خاتمہ ہو جاتا ہے جس کے بارے میں کولوراڈو اور کینٹکی کے شہری رہنماؤں نے اعتراف کیا کہ وہ ہمیشہ ان کے ذہنوں میں تھی۔

پیوبلو کے میئر نک گراڈیسر نے کہا، "وہ (ہتھیار) باہر زمین کی گہرائی میں دفن ہونے کی وجہ سے بے ضرر تھے۔ لیکن انہوں نے مزید کہا، "آپ ہمیشہ سوچتے تھے کہ کہیں ان کے ساتھ کوئی حادثہ نہ ہو جائے۔"

1980 کے عشرے میں، کینٹکی کے بلیو گراس آرمی ڈپو کے اردگرد کے لوگ، فوج کے 520 ٹن کیمیائی ہتھیاروں کو جلانے کے ابتدائی منصوبے کی مخالفت میں اٹھ کھڑے ہوئے۔ اس کے نتیجے میں عشروں تک کے لئے ایک طویل جنگ چھڑ گئی کہ انہیں کیسے ٹھکانے لگایا جائے گا۔ وہ لوگ ہتھیاروں کو تلف کرنے والے پلانٹ کے منصوبے کو روکنے میں کامیاب ہو گئے، اور پھر قانون سازوں کی مدد سے فوج کو آمادہ کیا کہ ہتھیاروں کو جلانے کے لیے کوئی متبادل طریقے سامنے لایا جائے۔

کریگ ولیمز جو پہلے کمیونٹی اپوزیشن کی ایک سرکردہ آواز بن کر سامنے آئے اور پھر سیاسی قیادت اور فوج کے شراکت دار بن گئے، نے کہا کہ علاقے کے رہائشیوں کومہلک کیمیائی ایجنٹوں کو جلانے کی وجہ سے پھیلنے والی ممکنہ زہریلی آلودگی کے بارے میں تشویش تھی۔

ولیمز نے نوٹ کیا کہ فوج نے بحر الکاہل میں جانسٹن ایٹول جیسے دور دراز مقامات پر یا صحرائے یوٹاہ کے وسط میں ایک کیمیکل ڈپو پر ہتھیاروں کو جلا کر زیادہ تر ذخیرہ تلف کر دیا تھا۔ یہ مقامات محفوظ تھے لیکن کینٹکی سائٹ رچمنڈ سے متصل اور ریاست کے دوسرے بڑے شہر لیکسنگٹن سے صرف چند درجن میل کے فاصلے پر تھی۔ ولیمز نے کہا، "سموک اسٹیک سے ایک میل دور 600 سے زیادہ بچوں کا ایک مڈل اسکول تھا۔

کینٹکی اسٹوریج کی سہولت میں 1940 کے عشرے سے مسٹرڈ ایجنٹ اور VX اور سارین اعصابی ایجنٹ رکھے گئے ہیں جنکا زیادہ تر حصہ راکٹوں اور دیگر پروجیکٹائل کے اندر رکھا ہوا ہے۔ ریاست کا ڈسپوزل پلانٹ 2015 میں مکمل ہوا اور 2019 میں ہتھیاروں کی تلفی شروع ہوئی۔ یہ مہلک ایجنٹوں کو کمزور اور غیر مؤثر کرنے کے لیے نیوٹرلائزیشن نامی عمل کا استعمال کرتا ہے تاکہ انہیں محفوظ طریقے سے تلف کیا جا سکے۔

تاہم، یہ منصوبہ دونوں برادریوں کے لیے ایک نعمت ثابت ہوا ہے، اور ہزاروں کارکنوں کے نقصان کی بنا پر دونوں اپنے علاقوں میں اعلیٰ ہنرمند مزدور جمع کر رہے ہیں۔ اس سے ان کمپنیوں کو فائدہ ہو گا جو ان علاقوں میں کام تلاش کر رہی ہیں۔

پیوبلو سائٹ کے کارکنان نے پرانے ہتھیاروں کو کنویئر سسٹم پر لوڈ کرنے کے لئے بھاری مشینری کو احتیاط سے - اور آہستہ آہستہ - استعمال کیا۔ انہیں محفوظ کمروں میں رکھ دیا گیا جہاں ریموٹ کنٹرول روبوٹ نے زہریلے مسٹرڈ ایجنٹ کو ختم کرنے کا خراب اور خطرناک کام کیا۔ یہ مسٹرڈ ایجنٹ، جلد پر چھالے اور آنکھوں، ناک، گلے اور پھیپھڑوں کی سوزش کا سبب بنتا تھا۔

مسٹرڈ ایجنٹ کو گرم پانی سے بے اثر کیا اور کاسٹک محلول کے ساتھ ملایا گیا تاکہ ردعمل کو الٹ ہونے سے روکا جا سکے۔ اس سے پہلے روبوٹک آلات کی مدد سے ہتھیاروں کے فیوز اور برسٹرز کو ہٹا دیا گیا تھا۔

بائی پراڈکٹ کو بڑے ٹینکوں میں مائیکروبز والے پانی میں ملا کر کے مزید توڑ دیا گیا، اور مارٹر اور پروجیکٹائل کو 1,000 ڈگری فارن ہائیٹ (538 ڈگری سیلسیس) پر آلودگی سے پاک کیا اور اسکریپ میٹل کے طور پر ری سائیکل کیا گیا۔

لیک شدہ یا زیادہ پیک ہو جانے والے خراب گولہ بارود کو دھماکہ کرنے والے بکتر بند، سٹینلیس سٹیل کے چیمبر میں بھیج دیا گیا جہاں اسے تقریباً 1,100 ڈگری فارن ہائیٹ (593 ڈگری سیلسیس) درجۂ حرارت پر تباہ کر دیا گیا۔

یوٹاہ اور جانسٹن اٹول سمیت کولوراڈو اور کینٹکی سائٹس آخری مقامات تھے، جہاں ملک کے کیمیائی ہتھیاروں کو ذخیرہ کر کے تباہ کر دیا گیا تھا۔ دیگر مقامات میں الاباما، آرکنساس اور اوریگون شامل ہیں۔ خطرات اور ہتھیاروں پر قابو پانے کے لیے امریکی وزیر دفاع کے معاون، کنگسٹن ریف نے کہا کہ آخری امریکی کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی "فوجی تاریخ کا ایک اہم باب بند کر دے گی، لیکن یہ ایک ایسا باب ہے جسے بند کرنے کے لئے ہم بہت زیادہ منتظر ہیں۔"

حکام کا کہنا ہے کہ امریکی ذخیرے کا خاتمہ کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ صرف تین ممالک مصر، شمالی کوریا، اور جنوبی سوڈان نے اس معاہدے پر دستخط نہیں کیے ہیں۔ چوتھے ملک، اسرائیل نے اس معاہدے پر دستخط کیے ہیں لیکن اس کی توثیق نہیں کی۔
ریف نے نوٹ کیا کہ اس بات پر تشویش باقی ہے کہ کنونشن کے کچھ فریقین، خاص طور پر روس اور شام کے پاس غیر اعلانیہ کیمیائی ہتھیاروں کا ذخیرہ موجود ہے۔

پھر بھی، ہتھیاروں کے کنٹرول کے حامیوں کو امید ہے کہ امریکہ کا یہ آخری اقدام باقی ممالک کو بھی اس میں شامل ہونے پر مجبور کر سکتا ہے۔ لیکن انہیں یہ بھی امید ہے کہ اسے دیگر اقسام کے ہتھیاروں کی تلفی کے لیے ایک ماڈل کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

"اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ممالک واقعی بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں پر پابندی لگا سکتے ہیں،" آرمز کنٹرول ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین اور کیمیکل ویپنز کنونشن کولیشن کے کوآرڈینیٹر، پال ایف۔ واکر نے کہا۔ "اگر وہ ایسا کرنا چاہیں، تو اس کے لیے صرف سیاسی سطح پر ارادہ اور ایک اچھا تصدیقی نظام (ویری فکیشن سسٹم) درکار ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں