سنگاپورکے اسپیکر اور خاتون رکن پارلیمان نازیبا تعلقات پر مستعفی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سنگاپور کی حکمران جماعت کے دو سینیر قانون سازوں نے اپنے درمیان ’’نازیبا تعلقات‘‘ کی وجہ سے استعفا دے دیا ہے۔

سنگاپورکے وزیراعظم لی سین لونگ نے پیر کے روز کہا ہے کہ ایوان نمائندگان کے اسپیکر تان چوآن جن اور قانون ساز چینگ لی ہوئی کے استعفے حکمراں جماعت پیپلز ایکشن پارٹی (پی اے پی، پاپ) کے معیارات کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری تھے۔

پاپ کے سینیر ارکان کے استعفے شاذونادر ہی ہوتے ہیں۔ یہ جماعت 1959 سے اقتدار میں ہے جبکہ سنگاپور 1965 میں آزاد ہوا تھا۔لی نے ایک بیان میں کہا کہ تان کا ذاتی طرزِعمل ’’کمزور پڑ گیا تھا، اور وہ ان کی اسپیکر کی سیاست سے دور رہنے اور (اپنے) خاندان کی دل جوئی میں مدد کرنے کی خواہش کو سمجھتے ہیں‘‘۔

قانون ساز چینگ 2015 سے پارلیمان کی رکن ہیں۔ چینگ سے فوری طور پر تبصرہ کے لیے رابطہ نہیں ہوسکا اوران کے استعفے اعلان کے وقت ان کے فیس بک پیج کو ہٹا دیا گیا تھا۔

سنگاپور کے وزیر ٹرانسپورٹ ایس ایشورن اور ہوٹل ٹائیکون اونگ بینگ سینگ کے خلاف بدعنوانی کی اعلیٰ سطح کی تحقیقات کے بعد یہ سیاسی ہلچل پیدا ہوئی ہے۔انھیں مختصرعرصے کے لیے زیرحراست رکھنے کے بعد گذشتہ ہفتے ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا۔انھوں نے ابھی تک تحقیقات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

جون میں کابینہ کے دو سرکردہ وزراء کو سرکاری بنگلوں کو مہنگے داموں کرائے پر دینے کی سرکاری جانچ پڑتال کے بعد غلط کام کرنے سے بری کر دیا گیا تھا۔

دریں اثناء حزب اختلاف کی ورکرز پارٹی (ڈبلیو پی) نے بھی کہا کہ وہ اپنے دو سینیر ارکان کے درمیان 'نامناسب تبادلے' کی تحقیقات کر رہی ہے کیونکہ آن لائن ایک ویڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں انھیں ایک ریستوران میں ہاتھ تھامے ہوئے دکھایا گیا ہے۔پی اے پی اور ڈبلیو پی دونوں ماضی میں غیر شادی شدہ تعلقات میں ملوث ہونے پر اپنے ارکان کو برطرف کر چکی ہیں۔

سنگاپورمیں اس طرح کے واقعات غیرمعمولی ہیں، جو خود کو بدعنوانی سے پاک ہونے اور سیاست دانوں کو اعلیٰ اخلاقی معیارات پر قائم رکھنے پر فخر کرتا ہے۔

نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور کے سیاسیات کے پروفیسر چونگ جا ایان کا کہنا ہے کہ پیر کے روز ہونے والی پیش رفت 'نسبتاً قابو پانے والے مسائل' ہیں جو سنگاپور کے سیاسی استحکام کو متاثر نہیں کریں گے۔چونگ نے کہا:’’یہ اس امر کی غمازہے کہ حکمراں اور حزب اختلاف دونوں جماعتوں کے نظام میں زیادہ شفافیت کی ضرورت ہے‘‘۔

مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم لی نے کہا کہ وہ یکم اگست تک ایوان نمائندگان کا نیا اسپیکرنامزد کریں گے۔انھوں نے مزید کہا کہ وہ فوری طور پر عام انتخابات کے اعلان کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے ۔ سنگاپور میں آیندہ عام انتخابات 2025 تک ہونے والے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں