ورلڈ فوڈ پروگرام کا ایک اردنی ملازم یمن میں قتل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

کل جمعہ کو اقوام متحدہ نے جنوبی یمن میں نامعلوم مسلح افراد کے ہاتھوں ورلڈ فوڈ پروگرام کے ایک ملازم کی ہلاکت پر اپنے "گہرے" دکھ کا اظہار کیا ہے۔

’ڈبلیو ایف پی‘ کے ایک ترجمان نے خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ "ورلڈ فوڈ پروگرام کو اس بات پر شدید دکھ ہوا ہے کہ یمن میں جمعہ کو نامعلوم مسلح افراد کے ہاتھوں اس کا رکن ہلاک ہو گیا ہے۔"

تنظیم اور یمنی وزیر صحت قاسم حیبح نے اعلان کیا کہ جنوب مغربی یمن میں تعز گورنری میں مرنے والا ملازم اردنی شہری تھا۔

یمنی وزیر صحت نے ایک ٹویٹ میں لکھا ہے کہ "ایک مجرمانہ حملے سے تعز کے شہر تربہ میں ڈبلیو ایف پی (ورلڈ فوڈ پروگرام) سے منسلک ایک اردنی شہری موئید حمیدی کو قتل کردیا گیا۔

انہوں نے متقول کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور سیکورٹی حکام سے مطالبہ کیا کہ "مجرموں کو گرفتار کرکے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔"

یمنی خبر رساں ایجنسی سبا نیٹ کے مطابق یمنی صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے "مسلح حملے میں ملوث مجرم عناصر کا تعاقب کرنے کی ہدایت کی ہے۔

العلیمی نے تعز گورنری کے گورنر نبیل شمسان کو فون کیا جنہوں نے انہیں اس واقعے کی ابتدائی معلومات سے آگاہ کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں