برطانیہ نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی عدلیہ کی آزادی کو برقرار رکھے۔
اسرائیل کی پارلیمان نے ملک بھر میں وزیراعظم نیتن یاہو کی حکومت کی پیش کردہ عدالتی اصلاحات کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کے باوجود سپریم کورٹ کے بعض اختیارات واپس لینے کے لیے نئے قانون کی توثیق کی ہے۔اس اقدام کو عدلیہ کی آزادی پر تحدید سے تعبیر کیا جارہا ہے۔
برطانوی وزارت خارجہ نےمنگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ اگرچہ اسرائیل کے آئینی انتظامات اسرائیلیوں کا معاملہ ہیں لیکن ہم اسرائیلی حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ اتفاق رائے پیدا کرے،تقسیم سے گریز کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ چیک اور بیلنس کے نظام اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔