مسلسل لڑائی سے سوڈان میں’ناقابلِ تصور‘جنگی جرائم کا ارتکاب کیا گیا: ایمنسٹی انٹرنیشل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ سوڈان میں اپریل سے شروع ہونے والی جنگ کے دوران بڑے پیمانے پر اور بدترین جنگی جرائم کا ارتکاب کیا گیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق جمعرات کو ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ جنگی جرائم میں سوڈان کی فوج اور مخالف پیراملٹری فورسز کے اہلکار بھی ملوث ہیں۔

برطانیہ میں قائم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق دونوں جرنیلوں کی افواج نے جن جنگی جرائم کا ارتکاب کیا اُن میں کم عمر لڑکیوں پر جنسی تشدد اور عام شہریوں کا بلاامتیاز نشانہ بنانا شامل ہے۔

رواں سال اپریل کی 15 تاریخ سے سوڈان کے آرمی چیف عبدالفتح البرہان اور اُن کے سابق نائب پیرا ملٹری ریپڈ سپورٹ فورسز کے کمانڈر ہمدان داغلو کے افواج کے درمیان جنگ جاری ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیکریٹری جنرل ایگنس کلامرد نے کہا کہ ’افواج کے درمیان علاقے پر قبضے کے لیے جاری جنگ میں پورے سوڈان میں عام شہری روزانہ کی بنیاد پر ناقبل تصور ہولناکی سے گزر رہے ہیں۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’دونوں افواج اور اُن سے منسلک مسلح دھڑوں کو فوری طور پر عام شہریوں کو نشانہ بنانے سے روکنا ضروری ہے اور جنگ زدہ علاقوں سے نکلنے والوں کو محفوظ راستہ دینے کی یقین دہانی کرانی چاہیے۔‘

سوڈان میں فوج نے سنہ 2019 میں بغاوت کر کے طویل عرصہ سے اقتدار میں رہنے والے عمر البشیر کی حکومت کا خاتمہ کیا تھا۔

اس کے بعد دو سال کے دوران جمہوریت کی جانب ایک سُست رفتار پیشرفت اور عبوری حکومت کے قیام کی کوششوں کو جنرل عبدالفتح البرہان نے اپنے نائب کمانڈر ہمدان داغلو سے مل کر ختم کر دیا تھا۔

اکتوبر 2021 میں عبوری حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد رواں سال اپریل میں دونوں جرنیلوں کی افواج کے دھڑوں کی آپس میں جنگ شروع ہو گئی جس کو روکنے کے لیے سعودی عرب اور امریکہ نے متعدد مشترکہ کوششیں کیں اور کئی بار عارضی جنگ بندی ہوئی۔

ایک نجی تنظیم کے مطابق دارالحکومت خرطوم اور جنوبی علاقے دارفر میں ہونے والی شدید لڑائی کے دوران اب تک چار ہزار کے لگ بھگ ہلاکتیں ہو چکی ہیں اور جنگ سے اب تک 33 لاکھ افراد علاقہ چھوڑ چکے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ’سوڈان میں بڑے پیمانے پر جنگی جرائم کیے جا رہے ہیں اور متحارب فریقوں کی جانب سے بلاامتیاز عام شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جس میں بہت زیادہ جانی نقصان ہوا ہے۔‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں