پاکستان کے جنوب مغرب میں پرتگالی بائیکر سڑک کے حادثے میں ہلاک

28 سالہ نونو میگوئل ویلاؤ کاسٹانہیریا نے مئی میں پرتگال سے اپنے 85,000 کلومیٹر کے عالمی دورے کا آغاز کیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایک پرتگالی بائیکر جو دو جرمن شہریوں کے ساتھ دنیا کی سیر پر تھا، پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں ایران کی سرحد سے گذرتے ہوئے سڑک کے ایک خوفناک حادثے میں ہلاک ہو گیا۔

28 سالہ نونو میگوئل ویلاؤ کاسٹانہیریا نے مارچ میں اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی موٹر سائیکل پر پرتگال سے آسٹریلیا، مشرق وسطیٰ اور جنوب مشرقی ایشیا تک 85,000 کلومیٹر کا سفر طے کریں گے۔ پرتگالی بائیکر نے اپنے سفر کا آغاز مئی میں جرمنی کے ٹونی پینکراز لنڈر اور نکولس لینگ کے ساتھ کیاتھا۔

تینوں مسافر ترکی سے ہوتے ہوئے ایران کے راستے جمعرات کی سہ پہر پاکستان میں داخل ہوئے لیکن پاکستان کے سرحدی شہر دالبندین میں ایک تیز رفتار پک اپ ٹرک نے ان کی موٹر سائیکل کو اس وقت ٹکر مار دی جب وہ صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کی طرف جا رہے تھے۔

ضلع چاغی کے ڈپٹی کمشنر حسین جان بلوچ نے بتایا کہ پرتگالی شہری کو ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔

پاکستان میں ایرانی ایندھن اور دیگر سامان کی سمگلنگ میں استعمال ہونے والے پک اپ ٹرک کے لیے مقامی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے بلوچ نے عرب نیوز کو بتایا۔ "غیر ملکی سیاح ایران کے راستے داخل ہوا اور وہ کوئٹہ جا رہا تھا کہ دالبندین کے قریب ایک تیز رفتار زمیاد گاڑی نے اس کی موٹر سائیکل کو ٹکر مار دی۔ لیویز فورس نے اسے تشویشناک حالت میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال دالبندین منتقل کیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔"

پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان کی سرحد شمال میں افغانستان اور مغرب میں ایران سے ملتی ہے اور بحیرۂ عرب کے ساتھ اس کی ایک طویل ساحلی پٹی ہے۔ بلوچستان کے کئی سرحدی شہر اور دیہات غیر قانونی انسانی اسمگلنگ اور ایران اور افغانستان سے پاکستان میں سامان کی سمگلنگ کے لیے بدنام ہیں۔

اسمگلر زیادہ تر پک اپ ٹرکوں کا استعمال کرتے ہیں جنہیں مقامی طور پر زمیاد گاڑیاں کہا جاتا ہے۔ وہ ایران اور افغانستان کے ساتھ پاکستان کی غیر محفوظ سرحد کے ذریعے ایرانی ایندھن، کھاد اور چینی اسمگل کرتے ہیں۔ ان کے ڈرائیور پاکستانی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں پکڑے جانے سے بچنے کے لیے اکثر تیز رفتاری سے ٹرک چلاتے ہیں۔

بلوچ نے کہا کہ انہوں نے پرتگالی بائیکر کو ٹکر مارنے والے ڈرائیور اور اس کے معاون کو حراست میں لے کر ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "پرتگالی سیاح کی لاش کو کوئٹہ منتقل کیا گیا ہے کیونکہ دالبندین میں ہمارے پاس مردہ خانہ نہیں تھا اور ہم نے موت کے حوالے سے پرتگالی سفارت خانے کو آگاہ کر دیا ہے۔"

متوفی غیر ملکی نے پانچ روز قبل اپنی آخری تصویر انسٹاگرام پر پوسٹ کی تھی جس میں وہ ایران کے ایک ویران علاقے میں اپنی موٹر سائیکل پر بیٹھے نظر آتے ہیں۔

انہوں نے (اپنی انسٹا پوسٹ میں) لکھا۔ "اس سفر میں مجھے اب تک کا سب سے حیرت انگیز تجربہ ہوا ہے۔ ریت کے ٹیلوں کو دیکھنا حیرت انگیز ہے اور مجھے امید ہے کہ ایک دن میں ان پر صحیح طریقے سے سواری کر سکوں گا۔"

نیم فوجی لیویز کے ایک سپاہی نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر عرب نیوز کو بتایا کہ پرتگالی بائیکر کو ٹکر مارنے والی گاڑی اسمگل شدہ چینی پاکستان سے افغانستان لے کر جا رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ "تیز رفتار گاڑی نے غیر ملکی سیاح کو سامنے سے ٹکر ماری اور خود ہی الٹ گئی۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں