صومالی وزیر برائے نوجوانان اور کھیل نے ملک کی ایتھلیٹکس فیڈریشن کے سربراہ کو معطل کرنے اور قانونی کارروائی شروع کرنے کا اس وقت فیصلہ کرلیا جب ایک خاتون کھلاڑی کو یونیورسٹی گیمز میں 100 میٹر کی دوڑ مکمل کرنے میں 21 سیکنڈ سے زیادہ کا وقت لگ گیا۔
نصرۃ ابوبکر علی نے چین میں ہونے والے یونیورسٹیز گیمز میں خواتین کی 100 میٹر کی دوڑ میں حصہ لیا لیکن وہ آخری نمبر پر رہیں۔ ریس جیتنے والی ایتھلیٹ خاتون نے 11.58 سیکنڈ میں فاصلہ طے کرلیا اور نصرۃ دس سیکنڈ سے زیادہ تاخیر سے یہ فاصلہ عبور کرسکی ۔
غیر تربیت یافتہ 20 سال کی نصرۃ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر پھیل گئی۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جب باقی رنرز فنش لائن پر پہنچے تو وہ سکرین کے فریم میں نہیں تھیں۔
صومالیہ کے وزیر کھیل محمد باری محمود نے کہا کہ صومالی اولمپک کمیٹی کی نگرانی میں کی گئی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ نصرۃ کوئی ایتھلیٹ یا رنر ہے ہی نہیں۔
وزیر نے ایک بیان میں مزید کہا کہ صومالی ایتھلیٹکس فیڈریشن کی صدر خدیجہ عدن ضاہر طاقت کے غلط استعمال، اقربا پروری اور بین الاقوامی فورم میں ملک کی شبیہ کو خراب کرنے میں ملوث تھیں۔
وزیر کھیل نے مزید کہا کہ وزارت صومالی ایتھلیٹکس فیڈریشن کے صدر اور صومالی یونیورسٹی سپورٹس فیڈریشن میں دھوکہ دہی کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا اعلان کر رہی ہے۔ وزارت نے مزید کہا کہ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ افریقی ملک میں یونیورسٹی کے کھیلوں کے لیے کوئی رجسٹرڈ فیڈریشن نہیں ہے۔