کویت کے وزیر خارجہ نے لبنان کے نگراں وزیر اقتصادیات امین سلام کے بیروت کی بندرگاہ کے ایک حصے کی تعمیرِنو کے بارے میں دیے گئے بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اس کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
امین سلام نے بدھ کے روز کویت پر زور دیا تھا کہ وہ بیروت کی بندرگاہ کے کنارے واقع گندم کے گوداموں کی تعمیر نو کرے۔یہ قبل ازیں 1969 میں کویت فنڈ برائے عرب اقتصادی ترقی کی امداد سے تعمیر کیے گئے تھے اور اگست 2020ء میں بیروت بندرگاہ پر آتش گیر مواد کے مہلک دھماکے میں تباہ ہو گئے تھے۔
سلام نے کہا کہ کویت ’’جنبشِ قلم‘‘ سے بیروت کی بندرگاہ پر گوداموں(سائلوز)کو دوبارہ تعمیر کرنے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔
کویت کے وزیرخارجہ شیخ سالم عبداللہ الجابر الصباح نے اس کے ردعمل میں کہا کہ سلام کا بیان سیاسی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتا کہ فیصلے کس طرح کیے جاتے ہیں۔انھوں نے لبنانی وزیر پر زور دیا کہ وہ دوطرفہ تعلقات کے تحفظ کے لیے اس بیان کو واپس لیں۔
دوسری جانب لبنانی میڈیا نے امین سلام کے حوالے سے بتایا کہ ان کا بیان اس بات کی طرف اشارہ کر رہا تھا کہ کوئی فیصلہ کتنی جلدی میں کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کا ہرگزکوئی غلط مطلب نہیں تھا۔
واضح رہے کہ 2021ء میں لبنان کے سابق وزیر اطلاعات کے یمن میں عرب قیادت میں فوجی مداخلت کے بارے میں تندوتیز بیان کے بعد لبنان اور خلیج عرب کے تعلقات خراب ہوگئے تھے۔اس وقت کویت سمیت خلیجی ممالک نے لبنان سے اپنے سفراء واپس بلا لیے تھے اور انھیں 2022 میں واپس بھیجا تھا۔
دریں اثناء کویت نے لبنان میں اپنے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ لبنان کے جنوب میں واقع فلسطینی کیمپ عین الحلوہ میں گذشتہ کئی روز سے جاری جھڑپوں کے بعد محتاط رہیں۔بعد ازاں ایک بیان میں نگراں وزیر اعظم نجیب میقاتی نے خلیجی ممالک کو یقین دلانے کی کوشش کی ہے کہ لبنان میں موجود ان کے شہری محفوظ ہیں۔