اسرائیل میں ہزاروں شہریوں نے سنیچر کو تل ابیب اور دیگر شہروں میں حکومت کے عدالتی اصلاحات منصوبے کے خلاف مظاہرے کیے۔
مظاہرین، سخت گیر مذہبی حکومت کے اس اصلاحاتی منصوبے کو جمہوریت کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔
اصلاحاتی منصوبہ
جنوری میں حکمران اتحاد کی جانب سے تجویز کرنے کے بعد سے اس اصلاحاتی منصوبے نے اسرائیلی معاشرے کو تقسیم کر دیا ہے اور ملکی تاریخ کی سب سے بڑی احتجاجی تحریکوں میں سے ایک کو جنم دیا ہے۔
حکمران اتحاد میں انتہائی دائیں بازو کی انتہائی مذہبی جماعتیں شامل ہیں۔
گذشتہ ماہ پارلیمنٹ نے اصلاحاتی پیکج میں پہلے بل کی منظوری دی تھی۔
یہ بل کچھ حکومتی فیصلوں پر عدالتی نگرانی کو محدود کرتا ہے۔
مظاہرین ملک بھر میں ہفتہ وار مظاہروں کے ذریعے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔
ہزاروں مظاہرین کی شرکت
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ہزاروں مظاہرین تل ابیب میں جمع ہوئے، کچھ اسرائیلی پرچم لہرا رہے تھے اور "جمہوریت، جمہوریت" کے نعرے لگا رہے تھے۔
اسرائیلی حکومت ان اصلاحات کو ناگزیر سمجھتی ہے جس سے سیاست دانوں کو عدلیہ پر زیادہ اختیارات حاصل ہوجائیں گے اور عدالت کی مداخلت کم ہوگی۔ مخالفین کو خدشہ ہے کہ اصلاحات آمرانہ بڑھوتری کی راہ ہموار کریں گی۔
نیتن یاہو، جن پر بدعنوانی کے الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جا رہا ہے، نے کہا کہ وہ ثالثی کی سابقہ کوششوں کی ناکامی کے باوجود اپوزیشن کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔
-
اسرائیل کے سیکڑوں ڈاکٹر ملک چھوڑنے کو تیار، کیا ان کی اگلی منزل عرب ممالک ہوسکتے ہیں؟
اسرائیل میں شدت پسند حکومتی اتحاد کی جانب سے منظور کرائی گئی متنازع عدالتی اصلاحات ...
بين الاقوامى -
کیا نیتن یاہو نااہل ہوجائیں گے؟ اسرائیل میں سپریم کورٹ نے اپیلوں کی سماعت شروع کردی
اسرائیل کی سپریم کورٹ آج جمعرات کو وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اور ان کے اتحاد کے ...
مشرق وسطی -
امریکہ فن لینڈ کو خصوصی میزائل سسٹم فروخت کرنے پر راضی ہوگیا: اسرائیل
اسرائیلی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ امریکہ نے دونوں ممالک کی طرف سے تیار کردہ میزائل ...
بين الاقوامى