نیجر:جنتا کا حملے کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر فوجیوں کو’انتہائی الرٹ‘ کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

نیجر میں فوجی جنتا نے ملک پر بیرونی حملے کے بڑھتے ہوئے خطرے کا حوالہ دیتے ہوئے مسلح افواج کو ہائی الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔

جنتا کے دفاعی سربراہ نے اس ضمن میں ایک داخلی دستاویز جاری کی ہے اور نیجرمیں سکیورٹی ذرائع نے اس کے مصدقہ ہونے کی تصدیق کی ہے۔

ہفتے کے روز بڑے پیمانے پر آن لائن شیئر کی گئی اس دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ’’انتہائی الرٹ رہنے کے حکم سے فورسز کو کسی بھی حملے کی صورت میں مناسب جواب دینے میں مدد ملے گی اور کسی عمومی حیرت سے بچا جا سکے گا‘‘۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ قومی علاقے پر جارحیت کے خطرات تیزی سے محسوس کیے جا رہے ہیں۔

مغربی افریقا کا اہم بلاک ای سی او ڈبلیو اے ایس (ایکواس) 26 جولائی کو نیجر میں برپا شدہ فوجی بغاوت کے رہ نماؤں کے ساتھ مذاکرات کی کوشش کر رہا ہے لیکن اس نے کہا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں تو وہ نیجر میں آئینی نظم و نسق بحال کرنے کے لیے فوج تعینات کرنے کو تیار ہے۔

لیکن جمعہ کو بلاک نے فوجی مداخلت کے خطرے کو پس انداز کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ’’سفارتی کوششوں کو پورا کرنے کے لیے پیچھے ہٹنے کو تیار ہے۔البتہ فوجی مداخلت کا آپشن زیرغور رہے گا‘‘۔

ای سی او ڈبلیو اے ایس کمیشن کے صدر عمرعلیو تورے نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’’ملک پر حملہ کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں لیکن میں شک سے بچنے کے لیے واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ ایکواس نے نیجر کے عوام کے خلاف جنگ کا اعلان کیا ہے اور نہ ہی ایسا کوئی منصوبہ ہے‘‘۔

اگست کے اوائل میں اس بلاک نے ممکنہ مداخلت کے لیے نام نہاد اسٹینڈ بائی فورس کو فعال کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس سے کشیدگی میں اضافے کے خدشات پیدا ہوگئے تھے اور اس سے شورش زدہ ساحل کے خطے میں مزید عدم استحکام پیدا ہوسکتا ہے جہاں پہلے ہی داعش اور القاعدہ ایسے مسلح گروپ فعال ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں