تاجکستان میں شدید بارشوں کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

تاجکستان میں شدیدبارشوں کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔یہ وسط ایشیا میں واقع اس پہاڑی ملک میں آنے والی تازہ ترین قدرتی آفت ہے۔

ملک کی ہنگامی صورت حال کی وزارت کی خاتون ترجمان نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ ہلاکتیں دارالحکومت دوشنبے کے جنوب اور مشرق میں واقع علاقوں میں ہوئی ہیں، جہاں اتوار کے روز طوفانی بارشوں کے نتیجے میں قریباً ایک درجن اضلاع میں مٹی کے تودے اور چٹانیں گری ہیں۔

تاجک صدر امام علی رحمانوف کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک مختصربیان میں کہا گیا ہے کہ شدید بارشوں کی وجہ سے گذشتہ کل ایک قدرتی آفت پیش آئی جس کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک ہوئے۔ان میں سے 11 ہلاکتیں وحدت اور دو ضلع رودکی میں ہوئی ہیں۔

وزارت کی ترجمان نے کہا کہ مزید لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات بدستور موجود ہیں۔

تاجکستان سابق سوویت یونین میں شامل وسط ایشیائی ریاستوں میں سب سے غریب ہے اورقدرتی آفات کا شکار ہے۔

فروری میں افغانستان، چین اور کرغزستان کی سرحد سے متصل جنوب میں واقع ایک خود مختار علاقے اَپر بدخشاں میں درجنوں برفانی تودے گرے تھے۔اس کے علاوہ لینڈ سلائیڈنگ اور چٹانیں گرنے کے واقعات پیش آئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں