روس اور یوکرین

انٹونی بلینکن کا امریکا کی جانب سے حمایت کے اظہار کے لیے یوکرین کا دورہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلینکن نے یوکرین کے روسی افواج کے خلاف جوابی حملے کی حمایت کے اظہار کے لیے بدھ کے روز کِیف کا دورہ کیا ہے۔اس موقع پر انھوں نے کہا کہ کہ واشنگٹن اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ اس کے اتحادی کے پاس ’’مضبوط سد جارحیت‘‘ہو۔

بلینکن کِیف پر روس کے تازہ فضائی حملے کے چند گھنٹے کے بعد پہنچے تھے۔اس حملے میں یوکرینی دارالحکومت میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

محکمہ خارجہ کے ایک سینیر عہدہ دار نے صحافیوں کو بتایا کہ اپنے دو روزہ دورے میں بلینکن ممکنہ طور پر امریکا کی جانب سے ایک ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کے نئے امدادی پیکج کا اعلان بھی کریں گے۔

اس عہدہ دار نے بتایا کہ جون کے اوائل میں یوکرین کی جوابی کارروائی کے بعد انٹونی بلینکن کا کِیف کا یہ پہلا دورہ ہے۔ انھوں نے میزبان وزیرخارجہ دمترو کلیبا کے ساتھ بات چیت کی ہے اور وہ صدر ولودی میرزیلینسکی سے ملاقات کرنے والے تھے۔

بلینکن کا کہنا تھا کہ ’’ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ یوکرین کے پاس وہ سب کچھ ہو،جس کی اسے ضرورت ہے، نہ صرف جوابی حملے میں کامیاب ہونے کے لیے، بلکہ اس کے پاس وہ ہے جو اسے طویل مدت کے لیے درکار ہے، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ اس کے پاس ایک مضبوط سدِّ جارحیت کا بندوبست ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ہم اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر امدادی کام جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہیں اور وہ ایک مضبوط معیشت اور مضبوط جمہوریت کی تعمیرِنو کی حمایت کرتے ہیں۔

میڈیا رپورٹس میں نامعلوم امریکی حکام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ یوکرین کا جوابی حملہ بہت سست روی کا شکار رہا ہے اور ناقص حکمت عملی کی وجہ سے اس میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے جس پر یوکرین کے حکام برہم ہو گئے تھے۔

یوکرین نے اپنے حملے میں ایک درجن سے زیادہ دیہات اور چھوٹی بستیوں کو روسی قبضے سے واگزار کرا لیا ہے لیکن روس کے زیر قبضہ علاقے میں اس کی پیش قدمی بارودی سرنگوں اور خندقوں کی وجہ سے سست روی کا شکار ہے۔

امریکی عہدے داروں نے یوکرین کی فوجی حکمت عملی پر عوامی طور پر تنقید نہیں کی ہے اور گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ انھوں نے جنوب مشرقی علاقے میں گذشتہ 72 گھنٹے کے دوران میں یوکرین کی قابل ذکر پیش رفت دیکھی ہے۔

دوسری جانب کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے بلینکن کے دورے کے بارے میں پوچھے جانے پر یہ تبصرہ کیا ہے:’’ماسکو کو یقین ہے،واشنگٹن یوکرین کی فوج کو مالی امداد جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے لیکن اس امریکی امداد سے روس کے 'خصوصی فوجی آپریشن' پر کوئی اثر نہیں پڑے گا‘‘۔

یوکرین کی امداد کی بڑھتی ہوئی مخالفت

بلینکن یہ دورہ ایسے وقت میں کررہے ہیں جب یوکرین کی پارلیمان نے سابق قانون ساز رستم عمروف کو وزیردفاع مقرر کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ حکام نے یہ نہیں بتایا کہ بلینکن اس دورے میں عمروف سے ملاقات کریں گے یا نہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا کہ بلینکن نے یوکرین کے پائلٹوں کو تربیت دینے کے لیے شراکت دار ممالک کے ایف 16 اتحاد میں ڈنمارک کی قیادت اور یوکرین کو ایف 16 طیارے عطیہ کرنے کے فیصلے پر ڈینش وزیراعظم فریڈریکسن کا شکریہ ادا کیا ہے۔

ڈنمارک اور نیدرلینڈز نے گذشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ وہ یوکرین کو 60 سے زیادہ امریکی ساختہ ایف 16 لڑاکا طیارے مہیا کریں گے اورپائلٹوں کی تربیت مکمل ہونے کے بعد یہ طیارے یوکرین کے سپرد کردیے جائیں گے۔

زیلنسکی نے ٹیلی گرام میسجنگ ایپ پر ایک پوسٹ میں اتحادیوں کا ان الفاظ میں شکریہ ادا کیا:’’ہمت کا شکریہ۔ اتحاد کا شکریہ۔ ہتھیاروں کا شکریہ. دنیا کی حمایت کا شکریہ‘‘۔

گذشتہ سال فروری میں روس کے حملے کے بعد سے اب تک یوکرین کے لیے امریکا نے بھرپور دفاعی امداد مہیا کی ہے اور ہر پلیٹ فارم پر اس کی حمایت کی ہے لیکن اس کے باوجود کئی ری پبلکن صدارتی امیدواروں نے امریکی امداد پر سوالات اٹھائے ہیں، جس سے ان خدشات کو تقویت ملی ہے کہ آیا 2024 کی انتخابی مہم میں شدت آنے کے بعد بھی واشنگٹن یوکرین کی اسی سطح پر حمایت جاری رکھے گا۔

امریکی حکومت اب تک یوکرین کو ہتھیاروں اور دیگر فوجی امداد کی مد میں 43 ارب ڈالر سے زیادہ مہیا کرچکی ہے۔ خبررساں ادارے رائٹرز نے جمعہ کو خبردی تھی کہ سکیورٹی امداد کے ایک نئے پیکج کا اعلان رواں ہفتے کیا جائے گا۔امریکی صدر جو بائیڈن نے اگست میں کانگریس سے کہا تھا کہ وہ یوکرین اور دیگر بین الاقوامی ضروریات کے لیے 24 ارب ڈالر سمیت 40 ارب ڈالر کے اضافی اخراجات کی منظوری دے۔

اس درخواست کو کانگریس میں مخالفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جہاں کچھ انتہائی دائیں بازو کے ری پبلکنز، خاص طور پر سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے والے موجود ہیں۔ وہ واشنگٹن کی طرف سے یوکرین کو بھیجی جانے والی اربوں ڈالرمالیت کی امداد واپس لینا چاہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں