غیر قانونی پناہ گزینوں کا مسئلہ بحیرہ روم کی سرحد سے متصل ممالک کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے مگر تونس ان ممالک میں شامل ہونے کی وجہ سے اضافی مشکلات سے دوچار ہے۔
تونس کے مختلف ہسپتالوں کے مردہ خانوں میں غیر قانونی تارکین وطن کی لاشوں کے انبار ہیں اور گلی سڑی ان لاشوں سے تعفن پھیل رہا ہے۔
ملک کے جنوب مشرق میں واقع شہر قابس کے ہسپتال میں تعفن زدہ لاشوں کی بدبو کی وجہ سے طبی عملے کے بے ہوش ہونے کے واقعات دیکھنے میں آئے۔
افریقی تارکین وطن
مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق منگل کو قابس میں علاقائی کونسل کی ہیلتھ کمیٹی کے سربراہ عصام الجابری نے تصدیق کی کہ صحارا افریقہ سے تعلق رکھنے والے غیر قانونی تارکین وطن کی تقریباً 55 لاشیں ہسپتال کے مردہ خانوں میں پڑی ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ "مقامی حکام کی جانب سے جون کے وسط سے اجازت ملنے کے باوجود تقریباً 22 لاشیں تدفین کی منتظر ہیں۔"
انہوں نے انکشاف کیا کہ ہسپتال میں میتوں کے کمروں سے نکلنے والی بدبو کی وجہ سے طبی اور پیرا میڈیکل سٹاف کے بیہوش ہونے کے متعدد واقعات ریکارڈ کیے گئے۔
قابل ذکر ہے کہ تونس نے اس سال کے وسط میں اپنے ساحل سے غیر قانونی تارکین وطن کی 900 سے زائد لاشیں برآمد کرنے کا اعلان کیا تھا۔
جب کہ صحت کے حکام نے تصدیق کی کہ ملک کے مشرق میں واقع صفاقس گورنری میں مردہ خانے کی گنجائش ختم ہوچکی ہے۔ گذشتہ سال جولائی کے بعد وہاں پر سب سے زیادہ لاشیں لائی گئیں۔
سرکاری اعداد وشمار کے مطابق اس سال کے آغاز سے اب تک غیر تونسی غیر قانونی تارکین وطن کی تقریباً 700 لاشیں گریٹر صفاقس میونسپلٹی کے قبرستانوں میں دفن کی جا چکی ہیں