مراکش زلزلہ : یونیسکو کے عالمی ورثے میں شامل قدیم عمارتیں منہدم

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف جیو فزکس کے مطابق "یہ ایک صدی میں پہلا موقع ہے کہ مرکز نے مراکش میں اس نوعیت کا تباہ کن زلزلہ ریکارڈ کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مراکش میں آنے والے زلزلے کے مرکز کے قریب ترین واقع بڑے شہر مراکش کے رہائشیوں نے بتایا کہ پرانے شہر میں کچھ عمارتیں گر گئی ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ قدیم شہر کی دیوار کے کچھ حصوں کو بھی نقصان پہنچا جو اقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم یونیسکو کی عالمی فہرست میں شامل ہیں۔

مقامی ٹیلی ویژن نے ایک قدیم مسجد کے مینار کے گرنے اور ٹوٹی ہوئی کاروں پر ملبے کے بکھرنے کی تصاویر دکھائیں۔

آن لائن پوسٹ کی گئی ویڈیو اور تصاویر میں شہر کے مشہور ترین مقامات میں سے ایک، مراکش میں 12ویں صدی کی ''کتبیہ مسجد'' کے قریب لوگوں کو بھاگتے اور چیختے ہوئے دیکھایا گیا ہے۔

مقامی میڈیا نے بتایا کہ مسجد کو نقصان پہنچا ہے تاہم اس کی حد فوری طور پر واضح نہیں ہو سکی ہے۔ اس کا 69 میٹر (226 فٹ) اونچا مینار "مراکش کی چھت" کے نام سے جانا جاتا ہے۔

ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ قدیم شہر مراکش کے ارد گرد قائم مشہور سرخ دیواروں کے جزوی کو نقصان پہنچا ہے، یہ قدیم فصیل یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں درج ہے۔

مقامی حکام نے بتایا کہ زیادہ تر اموات پہاڑی علاقوں میں ہوئیں جہاں تک رسائی مشکل ہے۔

"مدینہ عتیقہ"

یہ قابل ذکر ہے کہ مراکش کے پرانے شہر کو "مدینہ عتیقہ" کہا جاتا ہے اور اسے مراکش کے اہم سیاحتی مقامات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ اسے 1985 میں یونیسکو کی طرف سے منظور شدہ عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں درج کیا گیا تھا۔

یہ 1071-1072 میں سلطنت مرابطین اور پھر سلطنت موحدین کے دارالحکومت کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا۔

اس میں مذکورہ دونوں ادوار کے ساتھ ساتھ سعدیوں کے چھوڑے گئے قدیم آثار کا مجموعہ بھی شامل ہے۔

ان میں شہر کی بیرونی دیواریں، دروازے، کتبیہ مسجد اور اس کے مینار، اور دیگر مقامات اور یادگاریں اور پرانے روایتی مکانات شامل ہیں۔

مراکش کا سیاحتی مراکز
مراکش کا سیاحتی مراکز

صدی کا بدترین زلزلہ

مراکش کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف جیو فزکس کے ایک شعبہ کے سربراہ ناصر جابور نے کہا کہ "ایک صدی میں یہ پہلا موقع ہے کہ مرکز نے مراکش میں اس نوعیت کا پرتشدد زلزلہ ریکارڈ کیا ہے۔"

وزارت داخلہ نے بیان میں کہا کہ زلزلے کے نتیجے میں 632 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔

زلزلہ، جسے مملکت کی تاریخ کا سب سے بڑا زلزلہ قرار دیا گیا ہے، سے متعدد املاک کونقصان پہنچا اور عمارتیں زمین بوس ہوگئیں۔

العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار کے مطابق، صحت کے حکام نے مکینوں سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر خون کا عطیہ دیں۔

رباط میں واقع نیشنل سینٹر فار سائنٹیفک اینڈ ٹیکنیکل ریسرچ نے بتایا کہ زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7 ڈگری تھی اور اس کا مرکز الحوز صوبے میں تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں