تونس نے یورپی یونین کمیشن کے درمیان طے پانے والے ایمی گریشن معاہدے پر یورپی نمائندوں کی تنقید کے بعد یورپی پارلیمنٹ کے ایک وفد کو اپنی سرزمین میں داخل ہونے سے روک دیا۔
یہ وفد جس میں تین فرانسیسیوں سمیت پانچ نمائندے شامل ہیں کو کل جمعرات کو تونس جانا تھا تاکہ موجودہ سیاسی صورت حال کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔
جولائی کے وسط میں یورپی یونین اور تونس کے درمیان ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے جس کا مقصد پناہ گزینوں کا یورپ کی طرف بہاؤ روکنے کے لیے اقدامات کرنا تھا۔
جرمن رُکن پارلیمنٹ مائیکل گہلر کی قیادت میں وفد نے سول سوسائٹی کے ارکان، ٹریڈ یونینوں اور تونس کی اپوزیشن کے نمائندوں سے ملاقات کرنا تھی۔
اس وفد کو لکھے گئے ایک خط میں تونس کے حکام نے یورپی پارلیمنٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی میں ان نمائندوں کو یہ بتا کر خود کو مطمئن کیا کہ "انہیں تونس کی سرزمین میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔"
یورپی پارلیمنٹ کے رکن منیر الستاوری نے کہا کہ یہ حیران کن اور غیر معمولی ہے۔