لیبیا میں سیلاب کے بعد لاشیں نکالنے والی غیر ملکی امدادی ٹیموں کے متعدد غوطہ خوروں نے لیبیا کے شہر درنہ کی بندرگاہ پر ایک ہولناک سانحہ کا انکشاف کیا۔
لیبیا کے میڈیا کے مطابق ریسکیوغوطہ خوروں نے تصدیق کی ہے کہ بڑی تعداد میں لاشیں درنہ کی بندرگاہ میں 12 میٹر کی گہرائی میں پھنسی ہوئی ہیں اور ان میں سے کچھ "اپنی گاڑیوں کے اندر" ہیں۔ اس سے طوفان کے اچانک اور تباہ کن ہونے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
لاشوں کی بھیانک حالت بتاتی ہے کہ پانی کی تباہی کی رفتار کے باعث موٹرسائیکل سوار اپنی کاریں بھی نہیں چھوڑ سکے۔
لیبیا کے اٹارنی جنرل الصدیق الصور نے درنہ ڈیموں کے ٹوٹنے کی تباہی کی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرانے کا عزم کیا ہے۔ جب کہ حکام نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کو الگ تھلگ کرنے کے اقدامات کا انکشاف کیا ہے۔
پارلیمنٹ کے نامزد وزیر اعظم کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں الصور نے اشارہ کیا کہ تحقیقات دونوں ڈیموں کی دیکھ بھال کے لیے مختص کیے گئے۔
دریں اثناء لیبیا کے نامزد وزیر اعظم اسامہ حماد نے کہا کہ حکام احتیاطی تدابیر اختیارکرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جن میں درنہ کے متاثرہ علاقوں کو باقی علاقوں سے الگ تھلگ کرنا شامل ہے۔
بحیرہ روم کے طوفان "ڈینیل" کے نتیجے میں ہونے والی شدید بارشوں نے گذشتہ ہفتے کے شروع میں مشرقی لیبیا میں جان لیوا سیلاب اور طوفانی بارشوں کا باعث بنا۔ اس کےنتیجے میں دو ڈیم ٹوٹ گئے جو بڑے پیمانے پر تباہی کا باعث بنا ہے۔