امریکی صدر جو بائیڈن اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان نیویارک میں آج بدھ کو ملاقات ہورہی ہے جس میں وہ ممکنہ طور پر اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت باہمی دل چسپی کے امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔
دسمبر میں نیتن یاہو کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ان کے درمیان یہ پہلی بالمشافہہ ملاقات ہوگی لیکن یہ نیتن یاہو کے پسندیدہ مقام وائٹ ہاؤس کے بجائے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر ہورہی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق دونوں لیڈروں کی بات چیت میں اسرائیل میں متنازع عدالتی اصلاحات کے علاوہ ایران کے جوہری پروگرام سے نمٹنے کی کوششوں اور اسرائیل اور سعودی عرب کے تعلقات کو معمول پر لانے کے امکانات پر غور کیا جائے گا۔
نیتن یاہو کو توقع تھی کہ ان کی امریکی صدور کے ساتھ معاملات کی طویل تاریخ کے پیش نظرانھیں اس سے پہلے امریکا کے دورے کی دی جائے گی لیکن بائیڈن نے اس کی مخالفت کی تھی۔ نیتن یاہو کی 2021 میں جو بائیڈن سے ان کے وائٹ ہاؤس میں پہنچنے کے بعد ابتدائی مہینوں میں ملاقات نہیں ہوئی تھی اور پھر انھیں اقتدار سے بے دخل کر دیا گیا تھا۔ وہ گذشتہ سال دسمبر میں دوبارہ برسر اقتدار آئے تھے۔
امریکی صدر نے ان کے بجائے اسرائیل کے قیام کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر جولائی میں وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی صدر اسحاق ہرتصوغ کا خیرمقدم کیا تھا اور امریکی حکام نے نیتن یاہو کو وائٹ ہاؤس میں آنے کی دعوت دینے دے انکار کردیا تھا۔بائیڈن سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کے قیام میں سفارتی کامیابی حاصل کرنے کے لیے سرگرمی سے کام کر رہے ہیں۔
تاہم سعودی عرب واضح کرچکا ہے کہ وہ اسرائیل کو اس وقت تک باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کرے گا جب تک اسرائیل اور فلسطین کے درمیان دیرینہ تنازع طے نہیں ہوجاتا۔وہ اس تنازع کا عرب امن اقدام کے مطابق حل چاہتا ہے۔