یورپ میں چمگادڑ کی غار سے چھ ہزار سال پرانے جوتے دریافت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایک نئی تحقیق میں ایسپارٹو ویڈ سے تیار کردہ تقریباً 20 سینڈل کا تجزیہ کرنے کے بعد یورپ کے قدیم ترین جوتوں کی نقاب کشائی کی گئی ہے، جن میں سے زیادہ تر بچوں کے دکھائی دیتے ہیں، جو اسپین میں صوبہ غرناطہ کے چمگادڑ کے غار میں درجنوں جزوی طور پر ممی شدہ لاشوں کی باقیات میں سے ملے تھے۔

یہ جوتے Cueva de los Murciélagos de Albuñol کے مقام پر دریافت ہوئے تھے اور انہیں 19ویں صدی میں کان کنوں نےاٹھا لیا تھا لیکن نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ وہاں سے ملنے والی اشیاء سوچ سے کہیں زیادہ پرانی ہیں۔

اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ نیو لیتھک کسانوں نے 6,200 سال پہلے ایسپاڈریل بنائے تھے، یعنی پچھلے مطالعات سے دو ہزار سال پہلے دیافت ہوئے تھے۔

تحقیقی مقالہ جس کی سربراہی الکالا یونیورسٹی کے ماہر آثار قدیمہ فرانسسکو مارٹنیز سیویلا نے کی اور سائنس ایڈوانسز نامی جریدے میں شائع کیا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ "سینڈل کا یہ گروپ جوتوں کے سب سے قدیم اور سب سے وسیع مجموعہ کی نمائندگی کرتا ہے، دونوں جزیرہ نما آئبیرین میں اور یورپ میں یہ اپنی نوعیت کے قدیم ترین جوتے ہیں۔

بارسلونا کی خود مختار یونیورسٹی کی ایک محقق اور اس تحقیق کی شریک مصنف ماریا ہیریرو اُٹل نے بتایا کہ غار میں پائے جانے والے جوتوں کے صرف معمولی حصے باقی ہیں، لیکن اب بھی ان کے پٹے ان سے ملتے جلتے ہیں۔

ارضیات سے تاریخ تک مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً 20 سائنسدانوں کی طرف سے کی گئی اجتماعی تحقیق نے اس مقام پر پائی جانے والی درجنوں آرٹ اشیاء میں سے 14 کا تجزیہ کیا۔ چار بہترین محفوظ شدہ تقریباً 9,500 سال پرانے ہیں۔

غار سے ملنے والی ٹوکریاں
غار سے ملنے والی ٹوکریاں

مارٹنیز نے کہا کہ "یہ پتھر کے درمیانے دور سے ہیں، اس علاقے میں زراعت کی آمد سے دو ہزار سال پہلے کے ہوسکتے ہیں"۔

ٹوکریاں برآمد

اس کے علاوہ تحقیق میں بتایا گیا ہےکہ غار سے ملنے والی ٹوکریاں بھی یورپ کی قدیم ترین ٹوکریاں قرار دی گئی تھیں۔ غار میں موجود ہر چیز کی طرح جنازے کے لیے استعمال ہوتی تھیں۔

کان کنی کی سرگرمیوں کے باوجود یہ مجموعہ جنوبی یورپ میں شکار اور جمع کرنے والی ٹوکریوں کے قدیم ترین اور بہترین محفوظ مجموعوں میں سے ایک کی نمائندگی کرتا ہے۔

غار کو لوٹے جانے کے دس سال بعد ایک وکیل اور ماہر آثار قدیمہ مینوئل گونگورا وائی مارٹنیز نے کہا کہ مقامی باشندوں سے انٹرویو کیا۔ ان سے درجنوں آثار قدیمہ خریدے اور یہ طے کیا کہ وہ پتھر کے دور سے تعلق رکھتے ہیں۔

ماہر ارضیات اور مطالعہ کے شریک مصنف ہوزے انتونیو لوزانو نے کہا کہ ’کسی اور جگہ سے ٹوکریاں اور سینڈل غائب ہو چکے ہوتے لیکن علاقے کی آب و ہوا اور ٹپوگرافی اور شکل کی وجہ سے غار میں نمی نہیں ہے۔ یہ غار یورپ میں منفرد مقام ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ جنوبی اسپین کے ایک غار میں پائے جانے والے ایسپاڈریل یورپ میں دریافت ہونے والے قدیم ترین جوتے ہیں۔

تحقیق سے پہلے، قدیم ترین معلوم پتھر کے دور جوتے آرمینیا کے ایک مقام پر ملے تھے اور ان کی تاریخ 5500 سال پہلے تھی۔ ٹخنوں سے اونچے چمڑے کے جوتے پلانٹ فائبر سینڈل کے اوپر جو الپس میں دریافت ہونے والے "آئس مین" 5,300 سال پرانے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں