یمن کی قومی فضائی کمپنی نے صنعاء سے اردن کے لیے پروازیں معطل کر دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن کی قومی فضائی کمپنی نے دارالحکومت صنعاء سے اردن کے لیے اپنی ہفتہ وار بین الاقوامی تجارتی پروازیں معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔اس نے یہ فیصلہ حوثی انتظامیہ کے ساتھ بینکوں سے فنڈز کے اجراء کےمعاملے پر اختلافات کے بعد کیا ہے۔

الیمنیہ کے چار عہدے داروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پرہفتے کے روز بتایا ہے کہ حکام کے حوثی باغیوں کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد اکتوبر میں اردن کے لیے ہفتہ وار چھے پروازیں روک دی جائیں گی۔

کمپنی کے حکام کا کہنا ہے کہ صنعاء کے بینکوں سے آٹھ کروڑڈالر کے فنڈز کے اجراء کے لیے ان کے حوثی انتظامیہ سے مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق الیمنیہ نے یہ تجویزپیش کی تھی کہ حوثی انتظامیہ 70 فی صد فنڈز لے جبکہ باقی 30 فی صد عدن میں قائم بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کو دیا جائے گا لیکن حوثی انتظامیہ نے اس پیش کش کو مسترد کردیا تھا اور اس کے پیش نظریمن کی قومی ائیرلائن نےاردن کے لیے پروازیں معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

الیمنیہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ گذشتہ کئی ماہ سے صنعاء کے بینکوں سے اپنی رقوم نکلوانے سے قاصر ہے اور حوثی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس کے اثاثوں پر عاید ’’غیرقانونی‘‘پابندیاں ختم کریں۔

واضح رہے کہ یمن کی قومی فضائی کمپنی نے اپریل 2022ء میں صنعاء سے اردن کے دارالحکومت عمان کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کی تھیں۔ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے ستمبر2014 میں صنعاء میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا اور تب سے دارالحکومت سمیت شمالی یمن پر اس کا کنٹرول برقرار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں