سعودی عرب میں منطقة نجران سینکڑوں ابتدائی اسلامی نقوش پر مشتمل ایک منفرد آثارِ قدیمہ کے ورثے کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔ یہ اسلامی نقوش قافلوں اور مسافروں کے لیے ایک اہم پڑاؤ کے طور پر اب بھی اس کے تاریخی مقام کے گواہ ہیں اور صدیوں کے دوران عربی خطاطی کے ارتقا کے ابتدائی مراحل اور اس کی تبدیلیوں کی دستاویزی توثیق کرتے ہی۔ ان نقوش سے اس خطے کی علمی، ثقافتی اور سیاحتی اہمیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
نجران کی آثارِ قدیمہ اور تاریخ کی سوسائٹی کے چیئرمین محمد آل ہتیلہ نے بتایا کہ اس علاقے میں ابتدائی اسلامی نقوش کے متعدد مقامات موجود ہیں جن میں سب سے نمایاں الاخدود کے تاریخی مقام کے قریب واقع جبل "الذرواء" ہے جہاں کوفی نقوش بکھرے ہوئے ہیں جن کی تاریخ پہلی اور دوسری صدی ہجری تک جاتی ہے۔
جبل الذرواء: چٹانوں پر ایمانی دستخط
محمد آل ہتیلہ نے بتایا کہ جبل الذرواء کے نقوش میں مغفرت اور قبولیت کی دعائیں شامل ہیں۔ یہ چٹانوں پر مسافروں کے چھوڑے ہوئے ایمانی دستخطوں کی طرح ہیں جو ابتدائی اسلامی ادوار کے دوران خطے میں انسانی سرگرمیوں اور آباد کاری کے تسلسل کی علامت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ نقوش مسافروں کے روحانی پہلو کی عکاسی کرنے کے ساتھ ساتھ ایک اہم عبوری پڑاؤ کے طور پر نجران کے تاریخی کردار کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔
جبل العان اور حمى الثقافیہ: قافلوں کی یادداشت
انہوں نے مزید کہا کہ جبل "العان" خطِ کوفی میں لکھے گئے منفرد اسلامی نقوش کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے جو خاندانوں اور قبیلوں کے ناموں کو پیش کرتے ہیں۔ اس سے تجارتی اور تاریخی قافلوں کے راستوں پر نجران کی اہمیت کی عکاسی ہوتی ہے۔
اسی طرح حمى الثقافی کا علاقہ قافلوں کے لیے پانی کا ایک بڑا ذریعہ تھا۔ حمی الثقافی مختلف قسم کے اسلامی نقوش اور تحریروں پر مشتمل ہے جو اس خطے کی تہذیبی موجودگی کی گہرائی کی تصدیق کرتے ہیں۔
200 سے زیادہ نقوش سے خط کوفی کے آغاز کی توثیق
نجران میں قدیم نقوش اور تحریروں کے آثارِ قدیمہ کے سروے سے خطِ کوفی میں لکھے گئے 200 سے زیادہ اسلامی نقوش کی توثیق ہوئی ہے۔ یہ نقوش متعدد مقامات پر پھیلے ہوئے ہیں اور ان میں سے کچھ کی تاریخ دوسری اور تیسری صدی ہجری تک جاتی ہے۔
یہ نقوش متنوع مذہبی مضامین پر مشتمل ہیں جن میں توحید، اللہ پر توکل اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شامل ہے۔ اس کے علاوہ ان کے مالکان کے دستخط اور ایسی دعائیں ہیں جو ایمان کے اظہار اور موت کو یاد کو ظاہر کرتی ہیں۔
عربی تحریر کا ارتقا ایک کھلی لیبارٹری
آل ہتیلہ نے کہا کہ نجران کے نقوش ایک کھلی تاریخی لیبارٹری کی نمائندگی کر رہے ہیں جو عربی تحریر کے ارتقا کے مراحل اور اس کے خطِ مسند سے نبطی، پھر کوفی اور آخر کار اپنی ترقی یافتہ شکل میں عربی خط تک منتقلی کی دستاویزی توثیق کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ شواہد عربی خط کے ارتقا کے گہوارے کے طور پر جزیرہ نما عرب کے مرکزی کردار کو نمایاں کرتے ہیں۔ یہ شواہد ایک عالمی ثقافتی اور سیاحتی منزل کے طور پر نجران کے مقام کو بھی مضبوط کرتے ہیں۔
ورثے کو سیاحتی راستے میں تبدیل کرنے کی کوششیں
سعودی عرب میں ہیریٹیج اتھارٹی ان مقامات کے سروے اور علمی دستاویزی کام کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اتھارٹی تحفظ، دیکھ بھال اور ثقافتی و سیاحتی فروغ کے پروگراموں پر عمل درآمد کر رہی ہے تاکہ اس منفرد تہذیبی ورثے کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
ماہرین جبل الذرواء، جبل العان اور حمى الثقافی کے مقامات کو ایک مربوط سیاحتی اور ثقافتی راستے سے جوڑنے کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔ یہ تینوں مقامات جزیرہ نما عرب کے جنوب میں سفر، قافلوں کی تاریخ اور عربی خط کے ارتقا کی کہانی بیان کرتے ہیں۔