بنگلہ دیش میں ڈینگی کی وبا سے ایک ہزار سے زائد اموات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بنگلہ دیش میں محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق رواں برس اب تک ڈینگی بخار سے ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ ہو چکی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سرکاری اعداد وشمار میں بتایا گیا ہے کہ بنگلہ دیش میں مچھروں سے پھیلنے والی وبا سے ہلاکتوں کی یہ سب سے زیادہ ریکارڈ شدہ تعداد ہے۔

 ڈینگی میں مبتلا بچے ڈھاکہ کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں: رائیٹرز
ڈینگی میں مبتلا بچے ڈھاکہ کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں: رائیٹرز

ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز نے اتوار کی رات شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایک ہزار چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں جب کہ دو لاکھ سے زیادہ تصدیق شدہ کیسز سامنے آئے ہیں۔

ہیلتھ سروسز کے سابق ڈائریکٹر بی نذیر احمد نے بتایا ہے کہ مون سون کے موسم میں پھوٹنے والے وبائی امراض کے باعث ہلاکتوں میں یہ تعداد سب سے زیادہ ہے۔

بی نذیر احمد نے مزید کہا کہ نہ صرف بنگلہ دیش بلکہ دنیا کے کئی ممالک کو ڈینگی بخار کی وبا کا سامنا ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے گزشتہ ماہ ایک بیان میں کہا تھا کہ ڈینگی کی وبا بنگلہ دیش میں صحت کے نظام پر بہت زیادہ اثر انداز ہو رہی ہے۔

 ڈینگی میں مبتلا بچے ڈھاکہ کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں: رائیٹرز
ڈینگی میں مبتلا بچے ڈھاکہ کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں: رائیٹرز

ڈینگی کی علامات میں تیز بخار، سر درد، متلی، الٹی، پٹھوں میں درد شامل ہے اور انتہائی سنگین صورتوں میں خون بھی بہنے لگتا ہے، بیماری پر بروقت قابو نہ پانے سے یہ جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے ڈینگی کے خاص قسم کے مچھروں سے پھیلنے والے دوسری قسم کے وائرس جیسے چکن گونیا، زرد بخار اور زیکا سے بھی خبردار کیا ہے، یہ وائرس بھی موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے تیزی سے پھیل رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں