اسرائیل-حماس جنگ عالمی معیشت کو تاریک کرنے والا ایک 'نیا بادل' ہے: آئی ایم ایف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے جمعرات کو کہا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ نے عالمی معیشت کے لیے افق تاریک کر دیا ہے جسے پہلے ہی کمزور ترقی سے دوچار تھی۔

مراکش میں آئی ایم ایف-عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں سے خطاب کرتے ہوئے جارجیوا نے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ "بہت قریب سے نگرانی کر رہا ہے کہ صورتحال کس طرف جا رہی ہے" اور یہ تیل کی منڈیوں کو کیسے متأثر کر رہی ہے۔

جارجیوا نے ذکر کیا کہ آئی ایم ایف کا عالمی معاشی منظر (ورلڈ اکنامک آؤٹ لک) جو اس ہفتے کے شروع میں جاری ہوا لیکن تنازعہ شروع ہونے سے پہلے تیار کیا گیا تھا، پہلے ہی کمزور عالمی نمو ظاہر کر چکا ہے۔

انہوں نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ "ہم شدید جھٹکوں کا سامنا کر رہے ہیں جو اب ایک ایسی دنیا کے لیے نیا معمول بنتے جا رہے ہیں جو کمزور ترقی اور اقتصادی طور پر ٹکڑوں میں منقسم ہونے کی وجہ سے کمزور ہے۔"

انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس کے درمیان تنازع کے اثرات کا اندازہ لگانا قبل از وقت ہے۔

لیکن جارجیوا نے مزید کہا، "بہت واضح طور پر یہ عالمی معیشت جو روشن نہیں ہے، اس کے افق پر ایک نیا بادل ہے۔ اس افق کو تاریک کرنے والا نیا بادل۔"

آئی ایم ایف نے اس سال کے لیے اپنی شرحِ نمو کی پیشن گوئی 3.0 فیصد رکھی ہے لیکن اسے 2024 کے لیے کم کر کے 2.9 فیصد کر دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ معیشت "لنگڑا رہی ہے، دوڑ نہیں رہی۔"

ہفتے کے آخر میں غزہ سے اسرائیل پر فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس کے حملے میں ہزاروں افراد ہلاک ہو گئے اور اس خدشے کی بنا پر تیل کی منڈیوں میں ہلچل مچ گئی ہے کہ دوسری قومیں مداخلت اور ممکنہ طور پر شرقِ اوسط میں ترسیل میں خلل پیدا کر سکتی ہیں۔

تنازع کے آغاز پر تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ ہوا لیکن اس کے بعد سے اس میں نرمی آئی ہے کیونکہ فراہمی کے بہاؤ میں فوری طور پر کوئی خلل نہیں آیا۔

آئی ایم ایف کے چیف اکانومسٹ پیئر اولیور گورنچاس نے منگل کو کہا کہ آئی ایم ایف کی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں 10 فیصد اضافہ عالمی نمو میں 0.15 فیصد پوائنٹس کی کمی اور افراطِ زر میں 0.4 فیصد پوائنٹس کا اضافہ کر سکتا ہے۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے جمعرات کو کہا کہ جنگ کی وجہ سے تیل کی فراہمی میں رکاوٹ کا خطرہ محدود ہے لیکن ضرورت پڑی تو وہ مارکیٹوں میں مداخلت کے لیے تیار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں