فلسطین کے مسئلے پر کونسل کی دہائیوں سے جاری خاموشی ناقابل قبول ہے: شہزادہ فیصل
سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے منگل کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہیڈ کوارٹر میں غزہ بحران پر ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کے موقعے پر تمام شہریوں کی اموات کی شدید مذمت کی ہے۔
سعودی عرب نے منگل کو شہریوں کو نشانہ بنانے پر اپنی ’واضح‘ مذمت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ’وہ کوئی بھی ہوں‘۔
عرب نیوز کے مطابق یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب سعودی عرب نے بین الاقوامی قوانین اور کنونشنوں کا احترام کرتے ہوئے غزہ میں فوجی کارروائیوں میں اضافے کو روکنے، ’خونریزی ختم کرنے‘ اور یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ ان کے ملک نے ’دوست اور برادر ممالک‘ کے ساتھ مل کر ان مقاصد کو حاصل کرنے اور تشدد کے دور کو ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام محصور ہیں اور غزہ پر اسرائیلی جنگ میں اضافے کا شکار ہیں۔
سعودی وزیر خارجہ کے مطابق: ’(فوجی کارروائیوں) میں (فلسطینی) شہری سہولیات، سکولوں، ہسپتالوں، بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا عمل جاری ہے۔ وہ خواتین، بچوں اور بوڑھوں سمیت ہزاروں شہریوں کی جانیں لے چکے ہیں۔ انہوں نے ہزاروں شہریوں کو زخمی کیا ہے۔
’اسرائیلی قابض افواج کی طرف سے غزہ کے باشندوں کے خلاف اس اجتماعی سزا کو ختم کرنے اور انہیں زبردستی بے گھر کرنے کی کوششوں کو ختم کرنے میں بین الاقوامی برادری کی آج تک ناکامی، ہمیں سلامتی اور استحکام کے قریب نہیں لے جا سکے گی۔‘
#NewYork | Foreign Minister HH Prince @FaisalbinFarhan: Every hour we speak, more civilians in Gaza are dying, more people are getting injured, the situation is getting worse. A ceasefire is an absolute necessity immediately, that will allow us to address all of the other issues. pic.twitter.com/H0ONiXZJ2J
— Foreign Ministry 🇸🇦 (@KSAmofaEN) October 24, 2023
شہزادہ فیصل بن فرحان غزہ پر اسرائیلی جنگ پر تبادلہ خیال کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطح کے اجلاس کے دوران گفتگو کر رہے تھے۔
اس کی میزبانی برازیل نے کی تھی، جس کے پاس اس ماہ کونسل کی گردشی صدارت ہے۔
شرکا میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس، حماس کے سات اکتوبر کے حملوں کے اسرائیلی متاثرین کے لواحقین اور 85 سے زائد ممالک کے نمائندے شامل تھے۔
شہزادہ فیصل نے غزہ کی پٹی میں ہزاروں شہریوں کی جانیں لینے والی خطرناک پیش رفت کے بعد تکلیف دہ حالات میں یہ اجلاس منعقد کیا، شہزادہ فیصل نے ایک آنے والی انسانی تباہی اور خطے اور وسیع دنیا کی سلامتی کے لیے خطرناک اثرات سے خبردار کرتے ہوئے کہا۔
انہوں نے کہا کہ فلسطین کے مسئلے پر کونسل کی خاموشی ’دہائیوں سے جاری ہے‘ اور ناقابل قبول ہے۔
شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ ’یہ کونسل اپنی خوش فہمی، اس بحران کی قیمت، جان و مال کے نقصانات اور خطے کی سلامتی اور استحکام کو لاحق خطرات کی ذمہ دار ہے۔
’بین الاقوامی امن اور سلامتی کو برقرار رکھنا اس کونسل کے کاموں میں سب سے آگے ہے۔ تاہم آج ہم دیکھتے ہیں کہ وہ اپنا کردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔ اس بحران کو حل کرنے کے لیے کسی قرارداد تک پہنچنے میں دیر ہو چکی ہے، کیونکہ اسرائیل بین الاقوامی کنونشنز بشمول بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس سے بین الاقوامی قانونی جواز کے میکانزم کی ساکھ پر شک پیدا ہوتا ہے۔‘
شہزادہ فیصل نے دیگر عرب وزرائے خارجہ اور عہدیداروں سے ملاقات کی، جس کے دوران مشرق وسطیٰ کی ابھرتی ہوئی صورت حال، خاص طور پر مسئلہ فلسطین پر پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
شہزادہ فیصل نے کہا: ’ہم سب یہاں ایک متحد پیغام کے ساتھ موجود ہیں کہ مزید تشدد اس کا جواب نہیں ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’تمام شہریوں کی زندگیاں تحفظ کی مستحق ہیں اور اس میں غزہ میں فلسطینی شہریوں کی زندگیاں بھی شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم سب یہاں ایک ساتھ کھڑے ہیں اور فوری جنگ بندی، غزہ کی ناکہ بندی کو فوری طور پر ختم کرنے اور امن عمل کی طرف واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔‘
#NewYork | Foreign Minister HH Prince @FaisalbinFarhan: we are all calling for an immediate ceasefire and an immediate lifting of the blockade on #Gaza and for a return to a peace process and a true serious approach to resolving the existing grievances of the Palestinian people. pic.twitter.com/wNV9vOtf84
— Foreign Ministry 🇸🇦 (@KSAmofaEN) October 24, 2023
سعودی وزیر خارجہ نے فلسطینی عوام کی تکالیف کو دور کرنے کے لیے ایک ’حقیقی، سنجیدہ نقطہ نظر‘ پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ ’مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے عالمی برادری کے اپنے موجودہ وعدوں پر قائم رہے بغیر ہم کبھی بھی منصفانہ امن نہیں دیکھ سکیں گے۔‘
بقول شہزادہ فیصل: ’اس کے بغیر، ہم اپنے خطے میں حقیقی سلامتی حاصل نہیں کر سکتے۔ اس پیغام پر ہم سب متحد ہیں اور ہمیں امید ہے کہ عالمی برادری ان نظریات کی حمایت کے لیے اکٹھی ہو گی۔‘
جب سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل سے پوچھا گیا کہ کیا وہ حماس کی مذمت کرتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: ’ہم تمام شہریوں کے قتل کی مذمت کرتے ہیں۔‘
شہزادہ فیصل نے اجلاس میں شرکت برازیل کے وزیر خارجہ مورو ویرا کی دعوت پر کی، جو اس وقت سلامتی کونسل کی صدارت کر رہے ہیں۔
اس اجلاس کا مقصد غزہ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں جاری بحران پر توجہ دینا اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق امن و استحکام کے حصول کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا۔