مشرق وسطیٰ

’’غزہ میں نسل کشی جاری رہی تو امریکہ بھی اس آگ سے محفوظ نہیں رہے گا‘‘

حماس یرغمالیوں کو چھوڑنے پر تیار، دنیا ہزاروں فلسطینوں کی رہائی کی حمایت کرے: حسین امیر عبداللہیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے خبردار کیا کہ اگر غزہ پر اسرائیلی جارحیت نہ رکی تو امریکہ بھی ’اس آگ سے بچ نہیں سکے گا۔‘’

’میں امریکی حکمرانوں سے کہنا چاہتا ہوں جو اس وقت فلسطین میں نسل کشی میں شامل ہیں کہ ہم خطے میں جنگ کے پھیلنے کا خیر مقدم نہیں کرتے۔ لیکن اگر غزہ میں نسل کشی جاری رہی تو وہ بھی اس آگ سے نہیں بچ سکیں گے۔‘

ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے جمعرات کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کہا ہے کہ حماس کے لیڈر سویلین قیدیوں کو چھوڑنے کے لیے تیار ہیں، دنیا چھ ہزار فلسطینی قیدیوں کی رہائی کی حمایت کرے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ میں کہا ہے کہ ایران نہیں چاہتا کہ اسرائیلی جارحیت مزید بڑھے۔

انہوں نے کہا کہ ہم تین ہفتوں سے ہم اسرائیل کے جنگی جرائم کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ غزہ میں نسل کشی اور وہاں سے جبری نقل مکانی فوری طور پر بند کی جانی چاہیے۔ امریکہ اور بعض یورپی ممالک نے اسرائیلی غاصب حکومت کی حمایت کی۔

امریکہ اور بعض یورپی ممالک غزہ اور مغربی کنارے میں تین ہفتوں سے بھی کم عرصہ میں تقریباً 7000 فلسطینی شہریوں کی شہادت کا باعث بنے۔

امریکہ، فلسطین میں نسل کشی اور جرائم کا خاتمہ کرے۔ ہم امریکہ سے کہتے ہیں کہ اگر نسل کشی کی کارروائیاں جاری رہیں تو ہم ساتھ کھڑے نہیں رہیں گے۔ اگر غزہ میں نسل کشی جاری رہی تو امریکہ بھی اس آگ سے محفوظ نہیں رہے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں