قبرص میں حکام نے اعلان کیا کہ امریکی وزیر خارجہ بلینکن اتوار کو ان کے ملک میں مختصر دورانیہ کے لیے رکے انہوں نے فلسطینی غزہ کی پٹی کے لیے میری ٹائم امدادی گزرگاہ کے قیام کے لیے قبرص کی تجویز پر تبادلہ خیال کیا۔
بلینکن ترکیہ جاتے ہوئے بغیر پیشگی اعلان کے لارناکا ایئرپورٹ پر اتر گئے۔ بلنکن نے اپنے طیارے میں قبرص کے صدر نیکوس کرسٹوڈولائڈس سے ملاقات کی۔ اپنی طرف سے قبرصی حکومت کے ترجمان نے ایک بیان میں بتایا کہ اس ملاقات میں مشرق وسطیٰ کی موجودہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ قبرص کی جانب سے غزہ میں شہریوں تک انسانی امداد بھیجنے کے لیے ایک مسلسل بنیاد پر ایک طرفہ سمندری راہداری کے قیام کے حوالے سے تجویز پیش کی گئی۔
یاد رہے کرسٹوڈولائڈس نے پہلے دن کہا تھا کہ امداد کی فراہمی کا راستہ تلاش کرنے کے لیے کام جاری ہے۔
انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مزید کہا تھا کہ بحری جہاز غزہ کے سمندری علاقے تک نہیں جا سکتے۔ اس لیے ہم حماس سے نہیں بلکہ اقوام متحدہ سے بات کر رہے ہیں کہ وہ امدادی سامان کا انتظام سنبھالے۔
قبرص اس راہداری کے قیام کے لیے مشرق وسطیٰ میں اپنے پڑوسی ممالک اور یورپی یونین میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔ اس راہداری کو صرف انسانی امداد بھیجنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ خیال رہے قبرص یورپی یونین کا مشرق وسطیٰ سے قریب ترین رکن ملک ہے۔
غزہ کی پٹی مسلسل بمباری اور محاصرے کی زد میں ہے اور اس میں مصر کے ساتھ رفح گزرگاہ کے علاوہ امداد کی ترسیل کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ رفح کراسنگ سے بہت کم امداد داخل ہوتی ہے۔ یہ امداد اس انسانی تباہی کے مطابق نہیں ہے جس کا غزہ کی پٹی کو سامنا ہے۔