فلسطینی اتھارٹی کو اسرائیل محصولاتی آمدنی کی پوری رقم منتقل کرے: ناروے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ناروے کے وزیر اعظم جوناس گھار سٹوئر نے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ فلسطینی اتھارٹی کو محصؤلات سے ہونے والی پوری آمدنی منتقل کرے ، کیونکہ یہ ادائیگیاں فلسطینی عوام کی بہبود کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

ناروے فلسطینی علاقوں کے لیے بین الاقوامی ڈونرز کے گروپ کا سربراہ ہے۔ اسے ایک عارضی رابطہ کمیٹی کا نام دیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں 1992/ 93 میں ہونے والے اوسلو معاہدے میں سہولتکار کا کردار ناروے کو ہی سونپا گیا تھا۔

اسی معاہدے کے تحت فلسطینیوں کے ایک گروپ نے فلسطینی ریاست سے کم یعنی محدود خود اختیاری کے راستے کے طور پر فلسطینی اتھارٹی قبول کر لی تھی۔

چند روز قبل دو نومبر کو اسرائیل نے اعلان کیا تھا کہ وہ فلسطینی اتھارٹی کو ٹیکسوں سے ہونے والی رقم دے گا مگر غزہ کے حوالے سے کٹوتی کرے گا۔ خیال رہے فلسطینی اتھارٹی غزہ کے لیے ان فنڈز کو پبلک سیکٹر کی تنخواہوں اور بجلی فراہمی کے مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔

اس بارے میں اسرائیلی کابینہ نے کافی بحث کی کہ غزہ میں فنڈز کا منتقل کرنا حماس کو فائدہ پہنچانے کا ذریعہ بنے گا۔ 6 نومبر کو فلسطینی اتھارٹی نے کسی طرح کی کٹوتی کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔

اتھارٹی کے مطابق اس محصولاتی آمدنی کا 30 فیصد حصہ غزہ پر خرچ کیا جاتا ہے۔ ان اخراجات میں ہسپتالوں کی ادویات وغیرہ کی ضروریات بھی پوری کی جاتی ہیں۔

اس تنازعے کو طے کرنے کے لیے ناروے کے وزیر اعظم نے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ فلسطینی اتھارٹی کو پوری ادائیگی کرے۔ کیونکہ ان رقومات کی عدم منتقلی سے بہبود کا کام رک جائے گا۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں