سوئس حکومت نے حماس اور اس کی حمایت کرنے پر پابندی لگانے کا عندیہ دےدیا

ماہ فروری تک مسودہ قانون تیار کیا جائے گا، مسودہ قانون کے لیے کمیٹی قائم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سوئٹزر لینڈ نے فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس کو کالعدم قرار دلوانے کے لیے ایک مسودہ پیش کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ یہ مسودہ اگلے سال فروری تک پیش کر دیا جائے گا تاکہ سوئٹزر لینڈ میں حماس کی سرگرمیوں کے علاوہ اس کی حمایت میں کوئی سرگرمی ممکن نہ رہے۔

اس مسودہ قانون کی تیاری کی ضرورت اسرائیل کی غزہ پر بمباری کے دوران ہزاروں بچوں اور عورتوں سمیت ہونے والی فلسطینی ہلاکتوں کے خلاف کئی یورپی ملکوں میں اسرائیل عوامی احتجاج کے باعث بھی پیش آئی ہے۔

اسرائیل کے خلاف سامنے آنے والے مطالبات کا صاف مطلب ہے کہ یہ حماس کے حق میں جاتے ہیں۔ جس نے سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملے کر کے 1200 اسرائیلیوں کو ہلاک کر دیا جبکہ 240 کے قریب اسرائیلیوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔

اب سوئٹزر لینڈ کی فیڈرل کونسل نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ مسودہ قانون تیار کر کے حماس پر پابندی عائد کر دی جائے۔ یہ مشرق وسطیٰ میں سات اکتوبر سے پیدا شدہ صورت حال کے تناظر میں اہم پپیش رفت ہے۔

مجوزہ مسودہ قانون کے ذریعے وفاقی حکام کو ضروری اختیار میسر آجائیں گے جو حماس کی کسی بھی سرگرمی کو روک سکیں گے، اس کو ملنے والی حمایت کو غیر قانونی کہہ سکیں گے۔

سوئس حکومت نے اس سلسلے میں سات رکنی فورم تشکیل دیا ہے جو چار بڑی جماعتوں کے نمائندوں کے علاوہ پارلیمان میں موجودہ قانون سازوں پر مشتمل ہو گا۔ تاکہ ایک جامع قانون کی تیاری ممکن ہو سکے۔

واضح رہے سوئٹزر لینڈ کی انتہائی دائیں بازو کی سب سے بڑی جماعت اس قانون سازی کے لیے سب سے زیادہ زور دے رہی ہے کہ حماس پر پابندی لگائی جائے۔

دوسری جانب سوئس حکومت نے بدھ کے روز بین الاقوامی قوانین اور انسانی بنیادوں پر قائم قوانین کے احترام کی اپیل کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی حکومت نے اسرائیل پر حماس کے حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے ۔

سوئٹزر لینڈ ان ملکوں میں شامل ہے جو اسرائیل کے حق دفاع اور سلامتی کی حمایت کرتے ہیں۔ نیز غزہ میں انسانی بنیادوں پر امداد کے لیے جنگی وقفے کی بھی حمایت کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں