تونس میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کلپ تیزی کےساتھ وائرل ہو رہا ہے جس میں ایک دکان میں سوجی حاصل کرنے کے لیے شہریوں کے درمیان ہنگامہ آرائی اور بھگدڑ کی کیفیت دیکھی جا سکتی ہے۔
دوسری طرف بعض صارفین اس واقعے کو تونس میں جاری معاشی بحران کی ایک جھلک قرار دے رہے ہیں۔
ویڈیو کلپ میں درجنوں مردوں اور عورتوں کے بھگدڑ مچانے، چیخنے اور مارپیٹ کے واقعات کو دستاویزی شکل دی گئی ہے۔ یہ لوگ سوجی کا ایک تھیلا حاصل کرنے کے لیے ایک اسٹور کے اندر لڑائی اور جھگڑے تک پہنچ جاتے ہیں۔
زیر گردش ویڈیو نے تونس کے باشندوں میں بڑے پیمانے پر غصے کو جنم دیا۔
انہوں نے اشیائے خوردونوش کی خریداری اور ذخیرہ کرنے کے لیے شہریوں کی بے تابی کو تنقید کا نشانہ بنایا اوربعض نے اس کا مذاق اڑایا۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ تونس کے باشندوں کی خوراک کے لیے بھگدڑ کی تصاویر اور ویڈیوز سامنے آئی ہیں۔ ایسے مناظر ملک کے تمام شہروں میں بار بار دیکھنے کو ملتے رہتے ہیں۔
اس سے تونس کی ابتر معاشی صورتحال کی عکاسی ہوتی ہے۔ تونس میں کچھ عرصے سے چینی، دودھ، سوجی، کگنگ آئل، کافی، اور چاول جیسی کئی اشیائے خوردونوش کی کمی کی وجہ سے ان کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال مالیاتی بحران کی وجہ سے ملک کی اپنی خوراک اور اہم درآمدات کے بل ادا کرنے میں ناکامی کی وجہ سے ہے۔