ارجنٹائنی صدرنے زیلنسکی کو یہودیوں کی مذہبی علامت تحفےمیں کیوں پیش کی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اتوار کو یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ارجنٹائن کے صدر جیویر ملی کی تقریب حلف برداری کئی دوسرے عالمی رہ نماؤں کی موجودگی میں شرکت کی۔ اس موقعے پر ارجنٹائن کے نو منتخب صدر نے اپنے یوکرینی ہم منصب کا پُرتپاک اور مختلف انداز میں استقبال کیا۔ ارجنٹائن کے صدر نے انہیں ’ہنوکا شمعدان‘ کا تحفہ پیش کیا جو یہودیوں کے مذہبی تہواروں کی ایک خاص علامت سمجھا جاتا ہے۔

اگرچہ ارجنٹائن کے نئے صدر یہودی نہیں ہیں لیکن یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ یہودیوں کا تہہ دل سے احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے تورات اور دیگر یہودی مقدس کتابوں کا مطالعہ کرنے اور ان میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے، کیونکہ وہ یہودی مذہب قبول کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

جیویر ملی نے اتوار کو ارجنٹائن کے صدر کی حیثیت سے حلف اٹھاتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ وسائل کی کمی کے تناظر میں اخراجات کو کم کرنے اور مہنگائی کو روکنے کے لیے کفایت شعاری کے اقدامات کریں گے۔

ارجنٹائن کے نئے صدر نے زیلنسکی کا خیرمقدم کیا - رائٹرز

نئے صدر نے پیدل اور پھر ایک کھلی گاڑی میں کانگریس کی عمارت سے صدارتی محل کاسا روزاڈا تک سفر کیا۔ اس موقعے پران کی ہمشیرہ کرینہ بھی ان کے ہمراہ تھیں جہاں ان کا والہانہ استقبال کیا گیا۔

ملی نے صدر زیلنسکی کے ساتھ کانگریس کے اقدامات پر مختصر بات کی۔ زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ انہوں نے ایکواڈور، پیراگوئے اور یوراگوئے کے رہ نماؤں سے بھی بات چیت کی ہے کیونکہ وہ جنگ زدہ یوکرین کی حمایت میں حمایت اکٹھی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ملی بعد میں نو وزراء پر مشتمل حکومت کے ارکان کا اعلان کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے اقدامات کا پہلا سیٹ دنوں میں کانگریس کو پیش کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں