’یو ایس سینٹرل کمانڈ‘ (سینٹ کام) نے اعلان کیا کہ امریکی بحریہ کے ایک ڈسٹرائر نے ہفتے کے روز بحیرہ احمر میں چار مسلح ڈرون کومار گرایا۔
سینٹ کام نے ’ایکس ‘ پلیٹ فارم پر مزید کہا کہ جنگی بحری جہاز ’یو ایس ایس لیبون‘ جو بحیرہ احمر میں گشت کر رہا تھا نے "یمن میں حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں سے لانچ کیے گئے اور امریکی جنگی جہاز کی طرف پرواز کرنے والے چار ڈرونز کو مار گرایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ "وہاں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
On December 23 two Houthi anti-ship ballistic missiles were fired into international shipping lanes in the Southern Red Sea from Houthi controlled areas of Yemen. No ships reported being impacted by the ballistic missiles.
— U.S. Central Command (@CENTCOM) December 24, 2023
Between 3 and 8 p.m. (Sanaa time), the USS LABOON (DDG… pic.twitter.com/jcBisbXBaS
سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا تھا کہ یمن میں حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں سے بحیرہ احمر میں بین الاقوامی شپنگ لائنوں کی طرف دو اینٹی شپ بیلسٹک میزائل داغے گئے تھے، لیکن یہ اعلان نہیں کیا گیا تھا کہ ان میزائلوں سے کسی جہاز کو نقصان پہنچا ہےیا نہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ بحری افواج کی سینٹرل کمانڈ نے حملہ کرنے والے دو بحری جہازوں کی طرف سے مدد کی درخواست کا جواب دیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ناروے کا جھنڈا لہرانے والے کیمیکل اور آئل ٹینکرپر حوثیوں کی طرف سے ڈرون حملے کی اطلاع ہے۔
امریکی فوج نے یہ بھی اعلان کیا کہ انڈین پرچم بردار ایک آئل ٹینکر نے اطلاع دی ہے کہ بحیرہ احمر کو عبور کرتے ہوئے حوثی باغیوں کی طرف سے اس پر ڈرون سے حملہ کیا تھا جس کے بعد اس نے خطے میں تعینات ایک امریکی جنگی جہاز کو مدد کی درخواست کی تھی۔
’یو ایس سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے "ایکس" پر اپنے بیان میں اطلاع دی ہے کہ گیبون کے زیر ملکیت ٹینکر ایم وی سائبابا پر حملے کے نتیجے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔
حوثیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ ان بحری جہازوں کو حملوں کا نشانہ بناتے ہیں جو کہ اسرائیل سے منسلک ہیں یا اس کی بندرگاہوں کی طرف سفر کرتے ہیں۔
حوثیوں کے حملوں نے بڑی شپنگ کمپنیوں کو اپنے بحری جہازوں کو بحیرہ احمر کے راستے سے گذرنے کے بجائے افریقہ کے جنوبی سرے کی طرف دور دراز سمندری سفر پر مجبور کیا ہے۔
پینٹاگان کے مطابق حوثیوں نے 35 سے زائد مختلف ممالک سے منسلک 10 تجارتی جہازوں کو نشانہ بناتے ہوئے ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں سے 100 سے زیادہ حملے کیے ہیں۔