اخوان قیادت کی طالبان سے ملاقات،کیا اخوان المسلمون نئی پناہ گاہ کی تلاش میں ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

گذشتہ دنوں اخوان المسلمون اور عالمی علماء کونسل کے ایک وفد نے افغانستان کا دورہ کیا، جہاں اس نے طالبان رہ نماؤں اور تحریک طالبان کے وزیر دفاع ملا محمد یعقوب سے ملاقات کی۔ ملا یعقوب طالبان کے سابق رہ نما ملا عمر کے صاحبزادے ہیں۔

معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ طالبان اور عالمی علما کونسل کے وفد نے اس دورے کے دوران اخوان کی سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کی منتقلی کے ساتھ ساتھ اخوان کے رہ نماؤں اور ارکان کے لیے نئی پناہ گاہوں کا بندوبست کرنے پر تبادلہ خیال کیا جو مصر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سخت گرفت میں ہیں۔

وفد نے طالبان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی، طالبان حکومت میں نائب وزیر اعظم برائے انتظامی امور مولوی عبدالسلام حنفی، تحریک طالبان کے وزیر خارجہ امیرخان متقی اور دیگر رہ نماؤں سے ملاقات کی۔

اخوان پسپائی کا شکار

اس تناظر میں سیاسی اسلام کی علمبر دار تحریکوں کے ماہر عمرو عبدالمنعم نے العربیہ ڈاٹ نیٹ/الحدث ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ اخوان نے کچھ عرصہ قبل اپنے رہ نما حمزہ زوبہ کو طالبان کو مبارکباد دینے کے لیے افغانستان بھیجنے اور افغانستان سے ایک ٹی وی چینل شروع کرنے کی منظوری حاصل کرنے کا فیصلہ عارضی طور پر روک دیا تھا۔ جس کے بعد اس معاملے کا بہ غور مطالعہ کیا گیا۔

انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اخوان نے افریقہ میں اپنی کچھ اقتصادی کمپنیوں کو افغانستان منتقل کرنے کا مطالعہ کیا جس کا مقصد طالبان کی حکمرانی کو گورننس کا ایک ماڈل بنانا ہے تاکہ اگلے مرحلے میں عرب نوجوانوں میں فروغ دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اخوان کے وفود افغانستان کے دورے آنے والے عرصے میں بھی جاری رہیں گے، خاص طور پر چونکہ ترکی میں قائم اخوان کے اراکین کی المناک اور بگڑتی ہوئی صورت حال تنظیم پر بہت بڑا دباؤ بن گئی ہے۔

اس سے تنظیم کے انتظامات میں تیزی آئے گی۔ انہیں افغانستان میں ایک نئی پناہ گاہ مل سکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں