یمن اور حوثی

اٹلی کا یمن کے حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی میں حصہ لینے سے انکار: ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک سرکاری ذریعے نے جمعہ کو بتایا کہ اٹلی نے یمن میں حوثی گروپ کے خلاف امریکی اور برطانوی حملوں میں حصہ لینے سے راتوں رات انکار کر دیا اور وضاحت کی ہے کہ روم نے بحیرۂ احمر میں "سکون" کی پالیسی پر عمل کرنے کو ترجیح دی۔

اس ذریعے نے جو معاملے کی حساسیت کی وجہ سے اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا، یہ بھی کہا کہ حکومت کو کسی بھی فوجی کارروائی میں حصہ لینے کے لیے پارلیمانی حمایت کی ضرورت ہوگی جس کی وجہ سے فوری منظوری ناممکن ہے۔

امریکی حکام نے کہا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ نے فضا اور سمندر سے یمن میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا جبکہ نیدرلینڈ، آسٹریلیا، کینیڈا اور بحرین نے لاجسٹک اور انٹیلی جنس مدد فراہم کی۔

راتوں رات ہونے والے حملے بحیرۂ احمر - جو دنیا کی مصروف ترین تجارتی راستوں میں سے ایک ہے، میں جہاز رانی پر حوثیوں کے بار بار حملوں کا جواب تھے۔ ایران کا حمایت یافتہ حوثی گروپ کہتا ہے کہ اس کے حملے حماس کے ساتھ یکجہتی کی علامت ہیں۔

اس ہفتے کے شروع میں اطالوی وزیرِ دفاع گیڈو کروسیٹو نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ حوثی حملوں کو خطے میں نئی جنگ شروع کیے بغیر روکنا ہوگا۔

امریکہ اور دیگر ممالک نے گذشتہ ماہ بحیرۂ احمر میں سویلین بحری جہازوں کی حفاظت کے لیے آپریشن پراسپیریٹی گارڈین کا آغاز کیا تھا۔

جہاز کے مالکان کی جانب سے بیک اپ کی درخواستوں کے بعد اٹلی نے دسمبر میں اعلان کیا کہ وہ اس علاقے میں ایک بحری جہاز بھیجے گا لیکن اس نے امریکی قیادت میں مشن کے لیے سائن اپ نہیں کیا اور یورپی یونین کے دیگر اتحادی بھی اس اقدام سے خود کو دور کرتے نظر آ رہے ہیں۔

کروسیٹو نے کہا کہ اٹلی کو ایک نئے بین الاقوامی بحری مشن میں شمولیت کے لیے پارلیمانی منظوری کی ضرورت ہو گی جس سے ایسے کسی بھی معاملے کی حتمی تعمیل پیچیدہ ہو جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں