برآمدی سامان کو حوثی حملوں سے بچانے کے کئے بھارت ایران کے ساتھ رابطے میں ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بھارتی ذرائع نے بتایا ہے کہ بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملوں سے برآمد کنندگان کے بچاؤ کے لئے بھارت نے ایران کے ساتھ سفارتی بات چیت شروع کر دی ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے تمام ممکنہ اقدامات بھی جاری ہیں تاکہ اپنے برآمد کنندگان کے جہازوں کو حوثیوں کے حملوں کے اثرات سے بچایا جا سکے۔'

بھارت کے حکومتی ذرائع نے بدھ کے روز کہا ہے 'حوثی حملوں کی وجہ سے ایشیا اور یورپ کے درمیان تجارت میں سستی اور ٹھنڈک سی آ گئی ہے اور رسد میں بھی خلل آ رہا ہہے جبکہ سفری اخراجات اور لاگت بڑھ رہی ہے۔

حوثیوں کا موقف ہے کہ وہ یہ کارروائیاں غزہ کےجنگ زدہ فلسطینیوں کے ساتھ اظہار ہکجہتی کے لئے کر رہے ہیں۔ مزید یہ کہ انہوں نے یہ انتباہ بھی کیا ہے کہ وہ اپنی کاروائیوں کا دائرہ پھیلا بھی سکتے ہیں اور ان کی کارروائیاں امریکی جہازوں کو بھی لپیٹ میں لے سکتی ہیں۔

واضح رہے اسرائیل کی غزہ میں جنگ چوتھے ماہ میں داخل ہو چکی ہے اور اسرائیل کو امریکہ و مغربی ممالک کی مکمل حمایت میسر ہے۔

اس تناظر میں بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے پیر کے روز ایران کا دورہ کیا ہے۔ تاکہ ایران میں اس سلسلے میں بات کی جائے کہ حوثیوں کی وجہ سے عالمی تجارت متاثر ہو رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق جے شینکر نے بحیرہ احمر کی صورت حال پر بھی تفصیلی بات چیت کی ہے۔

دوسری جانب بھارتی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ علاقے میں حفاظتی ضرورت کے پیش نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔ جبکہ وزارت برائے خارجہ امور سفارتی سطح پر بہ احسن سب جگہوں پر رابطے میں ہے۔

اسی طرح بھارتی وزارت خزانہ نے بھی ایکسپورٹرز کو کے لئے رعائتی پیدا کر رہی ہے تاکہ جو بھی متاثر ہو رہے ہیں انہیں فوری مدد دی جائے۔ اس سلسلے میں کریڈٹ کے لئے بھی سہولیات دی جا رہی ہیں۔ بنکوں کو بھی ہدایات دی جا رہی ہیں۔

بھارتی وزارت خزانہ بحیرہ احمر میں کشیدگی کی وجہ سے ایکسپورٹرز کے سفری اخراجات بڑھ جانے کو دیکھ رہی ہے۔ اس لئے برآمد کنندگان اور تاجروں کو سہولیات دینے کے لئے کوشاں ہے۔ جبکہ جے شینکر نے ایران کو اپنے اور خطے کے ایکسپورٹرز کے مسائل سے بھی آگاہ کیا ہے۔ تاہم وزارت خارجہ اس بارے میں کسی تبصرے پر تیار نہیں ہے۔

بحیرہ احمر میں عالمی تجارت کا بارہ فیصد حصہ اسی بحیرہ احمر سے گذرتا ہے۔ جو آج کل حوثی حملوں کی وجہ سے ڈسٹرب ہے۔ دنیا بھر کے سامان سے لدے بحری جہازوں کو لمبے راستوں سے گذرنا پڑ رہا یے۔ نتیجتاً سفری اخراجات اور سپلائی چین دونوں کے حساب سے اشیاء کی لاگت بھی متاثر ہو رہی یے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں