غزہ جنگ : اٹلی کی بندرگاہوں کو بحیرہ احمر کے باعث تجارتی بحران کا خوف لاحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ میں اسرائیلی جنگ کے خلاف اور غزہ کے فلسطینیوں کے لئے اظہار یکجہتی کے نام پر بحیرہ احمر میں خلل پیدا کرنے کے حوثی عمل نے دنیا کی تجارتی سرگرمیوں میں بحران کی راہ ہموار کرنا شروع کر دی یے۔

اٹلی کی بندرگاہوں کو بحیرہ احمر کی کشیدگی سے زیادہ مسائل کا سامنا ہو نے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ اٹلی کی بندر گاہوں کے آپریٹرز کا خوف بڑھ رہا ہے کہ اگر غزہ کی جنگ اور بحیرہ احمر کے بحران کی وجہ سے تجارتی کمپنیوں کو مجبورا لمبا راستہ لینا پڑ سکتا ہے۔ نتیجتآ بحیرہ روم سے تجارتی نقل و حمل مستقل ہی دور جا سکتی ہے۔

ایرانی حمایت یافتہ حوثی گروپ پچھلے ماہ نومبر سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کو غزہ جنگ کے رد عمل کے باعث نشانہ بنارہے ہیں۔

واضح رہے بحیرہ احمر کے راستے دنیا کی تجارتی سامان کا 15 فیصد ایک خطے سے دوسرے خطے تک جاتا ہے۔

مگر حوثی اس میں رخنہ ڈال رہے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ وہ غزہ میں جاری جنگ کے کرداروں کے خلاف فلسطینیوں کی حمایت کے لئے ایسا کر رہے ہیں۔ جمعہ کے روز امریکہ اور برطانیہ کے بمبار طیاروں کی یمن میں کارروائیوں نے صورت حال مزید کشیدہ کر دی ہے۔

اٹلی نے حالیہ برسوں میں ہی بحرہ روم سے قربت کی پوزیشن کا فائدہ اٹھانے کا سوچ کر اس راستے زے اپنا مال لانا لے جانا شروع کیا تھا۔

لیکن اب حآلات کی خرابی آڑے آنے لگی ہے۔ تھنک ٹینک ایس آر ایم کے اعدادو شمار کے مطابق اٹلی کی تجارت کا 40 فیصد بحیرہ آحمر کے راستے گذر رہا ہے۔ سال 2022 میں اس نے اس راستے سے 168 ارب ڈالر کا کاروبار کیا ہے۔

لیکن حوثیوں کی حملوں کے بعد بعض جہاز ران کمپنیوں نے اپنے جہازوں کو بحیرہ احمر کے بجآئے جنوبی افریقہ کے راستے سے گذرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ مگر 'کیپ آف گڈ ہوپ' کا راستہ طویل ہے۔ایک جہاز کو 'کیپ آف گڈ ہوپ 'کے راستے دس سے پندرہ دن زیادہ سفر کرنا پڑتا ہے۔

اٹلی کے آپریٹرو کا خوف ہے کہ اس صورت حال میں ہنگری، جرمنی اور آسٹریا کے کسٹمر اس کے ہاتھ سے نکل جائیں گے کیونکہ وہ اشیا کی لاگت بڑھنا قبول نہیں کریں گے۔ خصوصآ ریل کے راستے آنے والی اشیا تو دوگنا زیادہ لاگت سے پہنچ سکیں گی۔
گویا یہ ایک مکمل طوفانی صورت حال بن رہی ہے۔ کیونکہ غزہ کی جنگ جے اثرات حوثیوں کے حملوں کی صورت میں بحیرہ احمر میں ان وقتوں میں شروع ہوئے ہیں جب بحر متوسط عالمی تجارتی کی مرکزی شاہراہ بن چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں