بحیرۂ احمر کے حملوں سے روسی اور چینی جہاز محفوظ ہیں: حوثی عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایک سینئر حوثی اہلکار نے بحیرۂ احمر سے گذرنے والے روسی اور چینی جہازوں کے لیے محفوظ راستے کا وعدہ کیا ہے جہاں ایرانی حمایت یافتہ گروپ غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے اسرائیل سے منسلک تجارتی جہازوں پر حملے کر رہا ہے۔

جمعہ کے روز روسی خبر رساں ادارے ایزویسٹیا کے شائع کردہ ایک انٹرویو میں سینیئر حوثی اہلکار محمد البخیتی نے اصرار کیا ہے کہ نقل و حمل کے کچھ ادارے جاری جارحیت کی وجہ سے یمن کے ارد گرد کے جن پانیوں سے گریز کر رہے ہیں، وہ اس وقت تک محفوظ ہیں جب تک کہ بحری جہاز بعض ممالک بالخصوص اسرائیل سے منسلک نہ ہوں۔

انہوں نے کہا، "جہاں تک روس اور چین سمیت دیگر تمام ممالک کا تعلق ہے تو خطے میں ان کی جہاز رانی کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔"

"مزید برآں ہم بحیرۂ احمر میں ان کے بحری جہازوں کی محفوظ روش کو یقینی بنانے کے لیے تیار ہیں کیونکہ آزادانہ نقل و حرکت ہمارے ملک کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، "اسرائیل کے ساتھ کسی بھی طرح سے منسلک" جہازوں پر حملے جاری رہیں گے۔

ایران کے حمایت یافتہ گروپ نے حال ہی میں کہا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ سے منسلک بحری جہازوں پر حملے بھی منصفانہ ہیں جب دونوں ممالک نے یمن کے بار بار حملوں کے جواب میں فضائی حملے کیے ہیں۔

حوثیوں نے جمعہ کی صبح ایک امریکی بحری جہاز پر ایک اور حملے کا دعویٰ کیا جس سے ایک دن پہلے امریکہ نے حوثی اہداف پر تازہ حملے کیے تھے۔

7 اکتوبر کو غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے حوثیوں نے یمن کے ارد گرد جہاز رانی کے اہم راستوں پر متعدد حملے کیے ہیں۔

جمعہ کے انٹرویو میں بخیتی نے کہا کہ بحری جہازوں کے حملوں کا الزام ان جہازوں پر عائد ہوتا ہے جنہوں نے حوثیوں کے راستہ تبدیل کرنے کے احکامات نظرانداز کیے۔

انہوں نے گروپ کا سرکاری نام استعمال کرتے ہوئے کہا، "انصار اللہ اِس یا اُس سمندری بحری جہاز کو پکڑنے یا غرق کرنے کے مقصد کا تعاقب نہیں کرتا۔"

"ہمارا مقصد غزہ میں قتلِ عام روکنے کی غرض سے [اسرائیل] کے لیے اقتصادی اخراجات میں اضافہ کرنا ہے۔"

بخیتی نے نومبر میں اپنے گروپ کی اسرائیلی تاجر سے منسلک ایک تجارتی جہاز گلیکسی لیڈر کی ضبطی کا - "ایک احتیاطی اقدام کے طور پر تاکہ ہر ایک ہماری ضروریات پر عمل کرے" - دفاع کیا۔

جہاز کے بدستور زیرِ حراست عملے کے بارے میں انہوں نے مزید کہا، "وہ بخیریت ہیں اور ہم ان کا پرتپاک استقبال کر رہے ہیں"۔

جبکہ حوثیوں کا اصرار ہے کہ ان کے حملوں میں صرف مخصوص قومیتوں کے جہازوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو امریکی بحریہ کے ایک کمانڈر نے کہا ہے کہ ان میں شامل بحری جہازوں کے درحقیقت درجنوں ممالک سے تعلقات ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں