اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے تل ابیب کے خلاف نسل کشی کے عالمی عدالتِ انصاف کے فیصلے کو ’ شرمناک ‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنے دفاع کے لیے جو کچھ بھی ضروری ہوگا کریں گے۔
دوسری جانب حماس کے سینیئر عہدیدار سمیع ابو زہری نے فیصلے پر ردعمل میں کہا ہے کہ عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) کا فیصلہ ایک اہم پیش رفت ہے جو اسرائیل کو تنہا کرنے اور غزہ میں اس کے جرائم کو بے نقاب کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
نیتن یاہو ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ہر ملک کی طرح اسرائیل کو بھی اپنا دفاع کرنے کا بنیادی حق حاصل ہے۔ اسرائیل کو اس بنیادی حق سے محروم کرنے کی مذموم کوشش یہودی ریاست کے خلاف امتیازی سلوک ہے اور اس غیر منصفانہ فیصلے کو ہم مسترد کرتے ہیں۔
Prime Minister Benjamin Netanyahu's comments on the decision of the International Court of Justice in The Hague:
— Prime Minister of Israel (@IsraeliPM) January 26, 2024
"Israel's commitment to international law is unwavering. Equally unwavering is our sacred commitment to continue to defend our country and defend our people. pic.twitter.com/Zz0V76Otg6
ادھر اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے عالمی عدالت کی جانب سے اسرائیل کو فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کی کارروائیوں کو روکنے اور غزہ میں شہریوں کی مدد کے لیے مزید اقدامات کرنے کا حکم دینے پر بظاہر اس کا مذاق اڑایا ہے۔
فلسطین کے وزیر خارجہ ریاض المالکی نے کہا ہے کہ فلسطین عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) کے حکم کا خیرمقدم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی جے کے ججوں نے حقائق اور قانون کا جائزہ لیا، انہوں نے انسانیت اور بین الاقوامی قانون کے حق میں فیصلہ دیا۔