پیرس، فرانس میں مشتعل کسانوں کا ٹریکٹروں سے گھیراؤ، 15,000 سکیورٹی اہلکار تعینات
فرانس کے مختلف شہروں سے 72 ہزار کسان مظاہروں میں شریک ہیں، فرانسیسی وزیر اعظم مظاہرین کو اپنی تحریک ختم کرنے پر قائل کرنے میں ناکام
فرانس میں منگل کے روز ہزاروں کی تعداد میں کسان اپنے مطالبات پر عمل درآمد میں ناکامی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ٹریکٹروں کے ساتھ دارالحکومت پیرس کے داخلی راستوں کا محاصرہ کرنے میں کامیاب ہو گئے، جب کہ فرانسیسی حکام نے مظاہرین پر قابو پانے کے لیے 15000 سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کا اعلان کیا ہے۔
مظاہرین بہتر اجرت اور کم ماحولیاتی ضوابط کا مطالبہ کر رہے ہیں، جو ان کے بقول ان کی روزی روٹی کو متاثر کر رہے ہیں۔
فرانسیسی کسانوں نے مہنگائی اور سستی درآمدات سے مسابقت کے خدشات پر حکومت کے ساتھ تعطل میں ٹریکٹروں کے ساتھ فرانس کے آس پاس کی بڑی موٹر ویز کو بند کر دیا ہے۔
پیر کے روز، کسانوں نے کہا کہ ان کا مقصد پیرس کی اہم سڑکوں پر آٹھ ناکے قائم کرنا ہے۔
وضعوا مخلفات حيوانية أمام المقار الحكومية.. المزارعون يصعدون غضبهم ضد الحكومة الفرنسية احتجاجاً على ارتفاع التكاليف وتدني مستويات دخلهم#فرنسا #العربية pic.twitter.com/2SlsE3hDED
— العربية (@AlArabiya) January 29, 2024
احتجاج کرنے والے کسانوں نے گذشتہ جمعہ کو حکومت کی طرف سے اعلان کردہ اقدامات کو ناکافی کہتے ہوئے اپنی تحریک جاری رکھنے اور دارالحکومت کے گھیراؤ کی دھمکی دی تھی۔
ینگ فارمرز یونین کے سیکرٹری جنرل، جو بڑی کسانوں کی یونین ایف این ایس ای اے، نے اس ہفتے کے آغاز میں سڑکوں پر رکاوٹیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا۔
زعيمة اليمين الفرنسي المتطرف #ماري_لوبان تعتلي جراراً زراعياً في لفتة تضامنية مع المزارعين المحتجين ضد الحكومة بسبب زيادة تكاليف الإنتاج وقلة مدخولهم#فرنسا#العربية pic.twitter.com/fGINZS6HQR
— العربية (@AlArabiya) January 29, 2024
فرانس کے مختلف شہروں سے تقریباً 72 ہزار کسان احتجاج میں شریک ہیں جب کہ فرانسیسی وزیر اعظم مظاہرین کو اپنی تحریک ختم کرنے پر قائل کرنے میں ناکام رہے۔
توقع ہے کہ فرانسیسی حکومت کسانوں کو مطمئن کرنے کے لیے آج کئی نئے اقدامات کا اعلان کرے گی۔
کسان تنظیموں کا کہنا ہے کہ کسان دوست منصوبوں کو مزید آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ بااثر کسانوں کی یونین ایف این ایس سی اے کے سربراہ نے کہا کہ ''لہذا ہم پیرس سے 30 کلومیٹر تک پیرس جانے اور جانے والی تمام اہم شاہراہوں کو روک دیں گے۔ ہمارا مقصد حکومت پر دباؤ ڈالنا ہے، تاکہ ہم فوری طور پر بحران سے نکلنے کا کوئی حل تلاش کر سکیں۔''
کم آمدنی اور ماحولیاتی پالیسیوں پر پورے یورپ میں، حالیہ ہفتوں کے دوران کسانوں کے بڑے پیمانے پر احتجاج دیکھنے میں آئے ہیں۔
اتوار کے روز، بیلجیئم کے کسانوں نے جنوبی بیلجیم میں ایک ہائی وے کو بند کر دیا، اور فرانس اور جرمنی میں ہونے والی احتجاجی تحریک کی طرح ایک تحریک میں شامل ہوئے۔