جنسی حملے اور اجرت میں امتیازی سلوک :موسیقی کی صنعت خواتین سے "نفرت" کرتی ہے!!

برطانوی پارلیمانی رپورٹ میں ان طریقوں کا انکشاف جو بعض خواتین فنکاروں کے کیریئر "تباہ" کر دیتے ہیں۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک برطانوی پارلیمانی رپورٹ نے موسیقی کے شعبے میں خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک اور جنسی حملوں کے وسیع پیمانے پر پھیلاؤ کی مذمت کی ہے، جو بعض اوقات خواتین فنکاروں کے کیریئر کو "تباہ" کر دیتے ہیں۔

اس رپورٹ میں، جس میں ریڈیو چینلز سے لے کر ریکارڈنگ اسٹوڈیوز اور آرکسٹرا تک پورے شعبے کا احاطہ کیا گیا ہے، نے موسیقی کے شعبے میں سفید فام مردوں کے غلبہ اور خواتین کے خلاف ان کے سخت امتیازی سلوک کا حوالہ دیتے ہوئے اسے "مردانہ کلب" کے طور پر بیان کیا ہے۔

سال 2023 میں خواتین فنکاروں کو برطانیہ کے میوزک سیلز چارٹ میں ٹاپ کرتے دیکھا گیا، کیونکہ سننے کی شرح کے لحاظ سے دس کامیاب ترین گانوں میں سے سات خواتین فنکاروں کے تھے۔

تاہم، مائلی سائرس، ٹیلر سوئفٹ، رے، اور لیبیانکا جیسے ستاروں کی کامیابی ایک گہری حقیقت کو چھپاتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، ''خواتین سب سے زیادہ فروخت ہونے والے فنکاروں میں سے ایک تہائی سے بھی کم اور نغمہ نگاروں کی صرف 14 فیصد نمائندگی کرتی ہیں۔"

خواتین کی نمائندگی کا فقدان مختلف سطحوں پر موجود ہے، خاص طور پر اعلی عہدوں پر، لیکن ان فنکاروں میں بھی خواتین کم ہوتی ہیں جو بڑی پروڈکشن کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کرتے ہیں۔ ریڈیو براڈکاسٹ ریٹس ، سٹریمنگ سروسز اور ایوارڈز حاصل کرنے میں بھی خواتین کا تناسب کم ہے۔

ویسٹ منسٹر ویمن اینڈ ایکویلٹی کمیٹی کی طرف سے جاری کردہ یہ رپورٹ خواتین کے لیے برطانیہ کے موسیقی کے شعبے کی ایک تاریک تصویر پیش کرتی ہے، خاص طور پر نسلی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کے لیے۔

یہ رپورٹ، جو انفرادی انٹرویوز اور ابتدائی تحقیقات پر مبنی تھی، غیر مساوی تنخواہوں سے لے کر خواتین کی صلاحیتوں کو منظم انداز میں کم کرنے کے ساتھ ساتھ خواتین فنکاروں پر ظاہری شکل کے حوالے سے مسلسل دباؤ تک کے بہت سے مسائل کا احاطہ کرتی ہے۔

یہ مسائل بہت سے ممالک کو متاثر کرتے ہیں اور برسوں سے منظر عام پر ہیں۔

کام پر امتیازی سلوک کے علاوہ، خواتین خاص طور پر جنسی طور پر ہراساں کیے جانے اور حملوں کا شکار ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں