بلومبرگ نیوزایجنسی نے بدھ کے روز باخبرترک حکام کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ ترک صدر رجب طیب ایردوآن 10 سال سے زائد عرصے کے کشیدہ تعلقات کے بعد اگلے ماہ مصر کا دورہ کریں گے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایردوآن اورمصری صدرعبدالفتاح السیسی کے درمیان ہونے والی بات چیت میں غزہ میں فلسطینیوں کوامداد کی ترسیل اور جنگ کے خاتمے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر توجہ مرکوز کیے جانے کی امید ہے۔
مصرمیں ترکیہ کے سفیر صالح موطلو نے کہا کہ دونوں صدور کے درمیان آئندہ سربراہی اجلاس میں غزہ کی جنگ کے حوالے سے تبادلہ خیال کیاجائے گا۔ انہوں نے "ایم بی سی مصر" کے پروگرام "ہاپنگ ان مصر" کے ساتھ خصوصی انٹرویو کے دوران اس بات پر زور دیا کہ ترکیہ فلسطینیوں کی نقل مکانی کی مخالفت پرمبنی مصری موقف کی حمایت کرتا ہے۔ ترکیہ بھی فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کے خلاف ہے۔
قاہرہ میں ترکیہ کے سفیر نے مزید کہا کہ ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے ذریعے فلسطین میں پائیدار امن و سلامتی کا قیام ضروری ہے اور جلد از جلد جنگ بندی ہونی چاہیے۔
صدر السیسی نے گذشتہ ستمبر میں بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں G20 سربراہی اجلاس کے موقع پر اپنے ترک ہم منصب ایردوآن سے ملاقات کی تھی۔
دونوں صدور نے تعلقات اور تعاون کو مضبوط بنانے، دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کو اپ گریڈ کرنے اور سفیروں کے تبادلے پر اتفاق کیا تھا۔
قاہرہ اور انقرہ کے درمیان 2013 میں سابق صدر محمد مرسی کی معزولی کے بعد سفارتی تعلقات منقطع ہوگئے تھے۔ دونوں ملکوں کے درمیا10 سال بعد سفارتی تعلقات بحال ہوئے ہیں۔
-
مکمل فتح کے بغیرغزہ سے فوج واپس نہیں نکلے گی : نیتن یاہو
پیرس میں اسرائیلی موساد سربراہ کے سی آئی اے سربراہ کی مدد سے قطر اور مصر کے ساتھ ...
مشرق وسطی -
غزہ میں قیدیوں کی رہائی کے بدلے جنگ بندی کا منصوبہ : شرائط پر بات چیت
خبر رساں ادارے رائٹرز نے اپنے ذرائع کے حوالے سے تصدیق کی ہے کہ یہ منصوبہ تین ...
مشرق وسطی -
غزہ جنگ نے لبنان کے قومی کیریئر ایم ای اے کو شدید متأثر کیا ہے: سینیئر سربراہ
کمپنی کے ایک سینئر ایگزیکٹو نے العربیہ پر انکشاف کیا ہے کہ غزہ میں جاری جنگ نے ...
مشرق وسطی