پیرس میں اسرائیلی موساد سربراہ کے سی آئی اے سربراہ کی مدد سے قطر اور مصر کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے بعد سامنے آنے والی تجویز پر حماس کا جائزہ لینے کے عندیہ کے بعد نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی سے اس وقت تک نہیں نکلے گی جب تک اسے مکمل فتح نہیں ہوجاتی۔
ادھر غزہ میں صورتحال یہ ہے کہ اسرائیلی فوج نے 27 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو ہلاک کرنے اور تقریباً پورے غزہ کو تباہ کرنے کے بعد بھی یہ کامیابی حاصل نہیں کی ہے کہ وہ غزہ میں ہر جگہ آزادانہ نقل و حرکت کرتے ہوئے موجود رہ سکے۔ بلکہ اپنی آزادانہ کارروائیوں میں مشکلات کے پیش نظر اسرائیلی فوج کے کمانڈوز فلسطینی خواتین کے لباس میں اور طبی عملے کے روپ میں اب چھپ کر وارداتیں کرنے کو زیادہ محفوظ سمجھنے لگے ہیں۔
غزہ کے شمالی حصے میں اسرائیلی فوج اور حماس کے درمیان جاری جھڑپوں کی وجہ سے فلسطینی اب بھی وہاں سے نکل کر جا رہے ہیں اور ساحلی پٹی کے جنوبی حصے میں بھی اسرائیلی بمباری جاری ہے۔
غزہ میں جاری لڑائی خان یونس کے سب سے بڑے ہسپتال الناصر کے اردگرد شدید ہورہی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اسرائیلی فوج نے الناصر ہسپتال کا محاصرہ کر رکھا ہے۔
اس دوران پیرس میں ہونے والے مذاکرات سے غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے حوالے سے ایک تجویز سامنے لائی گئی ہے۔ پیرس کے ان مذاکرات میں موساد کے سربراہ کو امریکی سی آئی اے کے سربراہ کی حمایت اور مدد حاصل تھی۔ جبکہ دوسری طرف قطر اور مصر کے حکام بھی ان مذاکرات کا حصہ تھے۔ مذاکرات کے حاصل کے طور پر تیار ہونے والی تجویز حماس کے سربراہ اسماعیل ھنیہ کو بھجوادی گئی جس کی وہ تصدیق کر چکے ہیں اور جائزہ بھی لے رہے ہیں۔
تاہم مغربی کنارے میں نیتن یاہو نے اپنی گفتگو میں کہا ہے کہ ہم اپنی مکمل فتح سے کم کسی بھی چیز پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ اسرائیل اپنے تمام اہداف حاصل کرے گا۔ جن میں حماس کا خاتمہ، یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ سے کسی بھی خطرے کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ شامل ہے۔
سینیئر حماس لیڈر سامی ابوزھری نے کہا ہے کہ نیتن یاہو کا بیان یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ پیرس میں ہونے والے مذاکرات کے ساتھ مخلص نہیں ہیں اور نہ ہی وہ اسرائیلی یرغمالیوں کی زندگی اور رہائی چاہتے ہیں۔
حماس کی اتحادی تنظیم اسلامی جہاد کی طرف سے بھی دوٹوک انداز میں وہی مؤقف اختیار کیا گیا ہے جو اس سے پہلے حماس کی طرف سے اختیار کیا جا چکا ہے کہ جنگ بندی سے پہلے کسی یرغمالی کو رہا نہیں کیا جائے گا۔ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ایک جامع جنگ بندی اور اسرائیلی فوجوں کا انخلاء ضروری ہے۔
جنگ میں ہونے والی اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں انسانی بحران پیدا ہو چکا ہے۔ لاکھوں فلسطینی بےسہارا ہوچکے ہیں۔ خوراک، پانی اور ادویات کی سپلائی ختم ہوچکی ہے۔
وزیر صحت الکائلہ نے کہا ہے کہ طبی سہولیات اور ادویات کی کمی کی وجہ سے تباہ کن صورتحال ہے۔ ملبوں کے نیچے موجود لاشوں کی وجہ سے وبائی امراض کو پھیلنے میں مدد مل رہی ہے۔