بحیرہ احمر میں خطرات تجارتی مفادات سےآگے نکل گئے ہیں: یورپی عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کےعہدیدار جوزف بوریل نے کہا ہے کہ بحیرہ احمر میں موجودہ خطرات تجارتی مفادات سےآگے بڑھ گئے ہیں اور ان سے علاقائی استحکام اور امن بھی متاثر ہو رہا ہے۔

انہوں نے جمعہ کو یورپی یونین اور انڈو پیسیفک فورم کے افتتاحی اجلاس کے دوران مزید کہا کہ بحیرہ احمر کی صورتحال کی وجہ سے ایشیا اور یورپ کے درمیان تجارتی بحری جہازوں کا سفر 10,000 میل تک بڑھ چکا ہے۔

العربیہ/الحدث کے نامہ نگارکی رپورٹ کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ یورپی بحری بیڑے کی تیاری اور اسے 19 فروری کو لانچ کرنے میں پیش رفت ہوئی ہے۔

خلیج عدن میں ڈرون مار گرایا گیا

جمعرات کی شام امریکی سینٹرل کمانڈ نے خلیج عدن پر ایک ڈرون مار گرانے اور بحیرہ احمر میں حوثی مسلح کشتی کو تباہ کرنے کا اعلان کیا۔

اسی دوران حوثیوں نے بحیرہ احمر میں ایک برطانوی تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا اعلان کیاجو ان کے بہ قول اسرائیلی بندرگاہوں کی طرف جا رہا تھا۔

حوثی فوج کے ترجمان یحیی ساری نے ایک بیان میں کہا کہ جہاز کو "مناسب بحری میزائلوں" سے نشانہ بنایا گیا۔

سمندری مال برداری کی حفاظت

قابل ذکر ہے کہ غزہ میں اسرائیلی جنگ شروع ہونے کے ایک ماہ سے زائد عرصے کے بعد گذشتہ نومبرسے حوثیوں نے ایران کے ساتھ مل کربحیرہ احمر میں کارگو بحری جہازوں پر دھماکہ خیز ڈرونز اور میزائلوں سے درجنوں حملے کیے ہیں۔

حوثی عسکریت پسند اغوا کیے گئے جہاز پر سوار ہیں
حوثی عسکریت پسند اغوا کیے گئے جہاز پر سوار ہیں

ان حملوں کی وجہ سے بین الاقوامی جہاز رانی میں خلل پڑا ہے اور ایشیا اور یورپ کے درمیان تجارت میں کمی آئی۔ اس کے علاوہ سپلائی میں رکاوٹوں کا خدشہ پیدا ہوا۔

ان واقعات نے غزہ میں سات اکتوبرسے حماس اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کا دائرہ وسیع ہونے کے خدشات پیدا کردیے ہیں۔

سمندر میں جہازوں کو نشانہ بنانے کی وجہ سے امریکا اور برطانیہ نے یمن کے حوثیوں کے ٹھکانوں پر کئی حملے کیے ہیں اور امریکا نے حوثیوں کو ایک بار پھر دہشت گرد گروپوں کی فہرست میں شامل کرلیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں