اسرائیل کی غزہ میں جنگ کے موضوع پر برازیلی صدر سے بلنکن کی ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برازیل کے صدر لولا دا سیلوا کے ساتھ ملاقات کے لیے امریکی وزیر خارجہ کی جنوبی امریکی ملک کا دورے کی وجہ صدر لولا کا فلسطینیوں کی نسل کشی کو نازیوں کے ہاتھوں یہودیوں کے قتل عام سے ملانا بنا ہے۔

اس ملاقات کے لیے وزیر خارجہ انٹونی بنکن کے روانہ ہونے پر امریکی حکام کا کہنا تھا کہ انہیں توقع ہے کہ صدر لولا اور وزیر خارجہ کے درمیان ٹھوس مکالمہ ہو گا۔جس میں عالمی سلامتی کے امور زیر بحث آئیں گے۔ ان میں غزہ میں جاری جنگ کا ایشو نمایاں ہو گا۔

برازیلی صدر لولا کے تازہ بیان پر اسرائیل کی طرف سے بھی سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے پیر کے روز کہا گیا تھا کہ صدر لولا کو اس وقت تک اسرائیل میں خوش آمدید نہیں کہا جائے گا جب تک وہ اسرائیل کے بارے میں کہے ہوئے اپنے الفاظ واپس نہیں لیں گے۔

ادھر امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے منگل کے روز کہا 'واشنگٹن صدر لولا کے اسرائیل سے متعلق تبصرے سے اتفاق نہیں کرتا ہے۔ لیکن اس بارے میں امریکی ترجمان نے کچھ کہنے سے انکار کر دیا کہ بلنکن اپنی ملاقات میں صدر لولا سے کیا بات کریں گے۔‘

برازیلی صدر کے اسرائیل کے بارے میں سخت تنقید پر مبنی خیالات اس وقت سامنے آئے ہیں جب صدر نے پچھلے ہفتے مشرق وسطیٰ کا دورہ کیا اور گروپ 20 کے وزرائے خارجہ کا اجلاس قریب ہے۔ اس گروپ 20 کی صدارت بھی ان دنوں برازیل کے پاس ہے۔

امریکہ جو اسرائیل کو فوجی مدد کے ساتھ ساتھ سفارتی حمایت بھی دیتا ہے اسرائیل پر بھی زور دیتا ہے کہ غزہ میں شہریوں کی ہلاکتوں سے گریز کرے۔

بلنکن کے برازیل جانے سے پہلے امریکہ کے معاون وزیر خارجہ بریان نکولس نے رپورٹرز کو بتایا 'دونوں ملک غزہ کی جنگ کے بارے میں خیالات کا تبادلہ کریں گے۔ یقیناً یہ موضوع دونوں کے لیے بہت اہم ہو گا۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں