اسرائیل جس کے تصور سے لے کر اس کے قیام کے لیے قراراداد اقو ام متحدہ تک اور بعد ازاں عرب دنیا کے ساتھ ٹرمپ کے ابراہم معاہدے سمیت ہر چیز باہر سے اسرائیل کو دی گئی اس اسرائیل کی پارلیمنٹ اپنے متنازعہ وزیر اعظم کے ساتھ یکجان ہو کر کھڑی ہو گئی ہے کہ فلسطینی ریاست کا فیصلہ باہر کے کسی ملک یا فورم کی طرف سے قبول نہیں کریں گے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے اس سلسلے میں چند روز قبل اعلان کیا تھا کہ اسرائیلی فلسطینی ریاست کے حق میں یکطرفہ فیصلے کو تسلیم نہیں کر گا نہ ایسی فلسطیی ریاست کو قبول کرے گا جو اسرائیلی اور فلسطینیوں کی باہمی اتفاق کا نتیجہ نہ ہو ۔
بدھ کے روز اسرائیلی پارلیمنٹ نے حکمران اتحاد اور اپوزیشن کی تفریق کو ختم کرتے ہوئے متحد ہو کر نیتن یاہو کے اس موقف کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔
نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم پارلیمنٹ میں کل 120 قانون ساز ہیں اور ان میں سے 99 نے نیتن یاہو کی حمایت میں ووٹ دے دیا ہے کہ یکطرفہ فلسطینی ریاست قبول نہیں ہے۔ بیان کے مطابق یہ موقف اس ہفتے پہلے کابینہ نے اختیار کیا اب پارلیمنٹ نے اس کی حمایت کر دی ہے۔
اپوزیشن کی طرف سے بھی کہا گیا ہے کہ صرف اسی کو فیصلے اور معاہدے کو مستقل طور پر اختیار کیا جا سکتا ہے جو اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان براہ راست مذاکرات کے نتیجے میں سامنے آیا ہو، نہ کہ بین الاقوامی براداری کی کے کسی حکم یا فیصلے کے طور پر۔
-
مغربی کنارا:اسرائیلی فوج نے جنین میں تین جنگجووں کو ہلاک کر دیا
اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے میں منگل اور بدھ کی درمیانی رات کو شمال مغربی شہر جنین ...
مشرق وسطی -
غزہ میں امداد لے جانے والے ’اونروا‘ کےقافلے پر اسرائیلی حملے کے ثبوت سامنے آگئے
اقوام متحدہ کو موصول ہونے والی دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ شمالی غزہ میں ...
مشرق وسطی -
حماس اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کی ڈیل میں پیش رفت کی امید
فلسطینی تنظیم حماس اور اسرائیل کےدرمیان قیدیوں کے حوالے سے ہونے والی بات چیت میں ...
مشرق وسطی