ہیرو شیما کے ایٹمی حملے میں پگھل جانے والی گھڑی 31 ہزار ڈالر میں نیلام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

6 اگست 1945ء کو جاپان کے شہر ہیروشیما پربمباری میں پگھل جانے والی ایک گھڑی کوکھلی نیلامی میں پیش کیا گیا جہاں اسے 31,000 ڈالر سے زیادہ کی رقم میں فروخت کیا گیا ہے۔

بوسٹن میں ’آر آر آکشنز‘ نمائش کے مطابق دوسری جنگ عظیم کے آخری دنوں کے دوران صبح 8:15 پر جاپانی شہر پر ایٹم بم پھٹنے کے وقت یہ گھڑی رُک گئی تھی۔

جمعرات کو ختم ہونے والی نیلامی میں جیتنے والی بولی 31,113 ڈالر تھی۔ نیلامی کے فاتح نے اپنی شناخت ظاہر نہیں۔

گھڑی کو ’ہیروشیما‘ کے کھنڈرات سے برآمد کیا گیا تھا۔ یہ شہر پر پھٹنے والے پہلے ایٹم بم سے ہونے والی بڑی تباہی کی ایک جھلک کی نمائندگی کرتا ہے۔

نیلام گھر کے مطابق تانبے کے رنگ کی چھوٹی گھڑی ایک عوامی نیلامی میں تاریخی اہمیت کے حامل دیگر سامان کے ساتھ فروخت کی گئی۔

اگرچہ دھماکے کی وجہ سے گھڑی کا کرسٹل دھندلا ہو گیا تھا لیکن اس کی سوئیاں صبح 8:15 پر رک گئیں۔ جب ایک امریکی طیارے نے ایٹم بم گرایا۔

نیلام گھر نے کہا کہ یہ گھڑی ایک برطانوی فوجی نے ہیروشیما میں ہنگامی سپلائی مشن اور تعمیر نو کی ضروریات کا جائزہ لینے کے دوران شہر کے کھنڈرات سے گھڑی برآمد کی تھی۔

"یہ ہماری پرجوش امید ہے کہ میوزیم کے لائق یہ ٹکڑا ایک پُرجوش علامت کے طور پر کام کرے گا، جو نہ صرف ہمیں جنگ کی تباہی کی یاد دلاتا ہے، بلکہ ایٹم بموں سے ہونے والی تباہی اور انسانیت کے لیے خطرات کی نشاندہی کرتی ہے‘‘۔

نیلامی کے لیے پیش کی جانے والی دیگر اشیاء میں سابق چینی رہ نما ماؤ زی تنگ کی "لٹل ریڈ بک" کی ایک دستخط شدہ کاپی جو 250,000 میں فروخت ہوئی، جارج واشنگٹن کا ایک دستخط شدہ انسٹرومنٹ 135473 ڈالر اور ایک اپولو 11 قمری ماڈیول 76,533 ڈالر میں فروخت ہوا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں