آئرلینڈ کے سینیٹ نے اسرائیل پر پابندیاں اور اسلحہ فراہمی روکنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ سینیٹ نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کے خلاف پابندیاں عائد کی جائیں اور بین الاقوامی سطح سے اس کو فراہم کیا جانے والا اسلحہ روکا جائے۔ نیز اسلحہ سپلائی کے لیے آئرلینڈ کی فضائی حدود کو اسرائیل کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ آئرش سینیٹ نے یہ مطالبہ متفقہ طور پر منظور کیا ہے۔
واضح رہے اب جبکہ اسرائیل کی غزہ میں جاری جنگ کو پورے پانچ ماہ ہونے والے ہیں اور اس جنگ میں امریکی و مغربی اسلحہ کی بنیاد پر 23 لاکھ سے زیادہ کی آبادی بےگھر ہوچکی ہے، پورا غزہ تباہ ہوچکا ہے، 30 ہزار فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، 70 ہزار فلسطینی زخمی ہیں اور اس وقت غزہ میں لوگ بھوک اور بیماری سے مر رہے ہیں جبکہ اس کے ساتھ ساتھ بمباری بھی جاری ہے۔ تو آئرش سینیٹ نے اس مطالبے کی متفقہ منظوری دی ہے۔
سینیٹ میں یہ تحریک پیش کرنے والوں میں سینیٹر فرانسس بلیک، لی یین راؤنے، ایلیس میری اور ایلین فلین شامل تھے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئرلینڈ کی حکومت اسرائیل پر پابندیاں لگائے اور بین الاقوامی کمیونٹی پر زور دے کہ وہ غزہ میں فوری طور پر جنگ بندی کروائے۔
تحریک کے مطابق آئرلینڈ سے مطالبہ کیا گیا کہ اسرائیل پر پابندیوں کے ساتھ ساتھ اسرائیل سے آنے والی مصنوعات کی آمد روکے اور ان سروسز کو بھی روکے جن کا تعلق مغربی کنارے میں یہودی بستیوں سے ہے۔ خیال رہے اسرائیل کی بہت ساری مصنوعات مقبوضہ مغربی کنارے اور ناجائز یہودی بستیوں کے علاقے میں تیار کی جاتی ہیں اور بعدازاں انہیں پوری دنیا بشمول مسلم دنیا میں برآمد کر دیا جاتا ہے۔ یہ زر مبادلہ اسرائیل کے لیے ریڑھ کی ہڈی کا کام کرتا ہے۔
Our motion has passed unopposed.The Seanad has called for the Occupied Territories Bill and the Illegal Israeli Settlements Bill to be passed,for an arms embargo on Israel and for an immediate suspension of the EU-Israel Association Agreement 🇵🇸#freepalestine #Gaza #CeasefireNow https://t.co/OGTcpmvabg
— Frances Black (@frances_black) February 21, 2024
آئرش سینیٹ سے منظور کی گئی تحریک میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے کہ بین الاقوامی برادری اسرائیلی جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے حوالے سے اسرائیل کو کٹہرے میں نہیں لا سکی ہے، بشمول امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین۔ اب انہیں چاہیے کہ وہ غزہ میں فوری جنگ بندی کروائیں یا اسرائیل کو اسلحہ کی سپلائی روکیں۔
آئرش سینیٹ کی طرف سے یہ مطالبہ ان ملکوں سے بطور خاص ہے جو غزہ میں اسرائیلی آپریشنز کا کسی نہ کسی طرح حصہ ہیں یا اسرائیل کو جدید ترین اسلحہ مسلسل؛ فراہم کر رہے ہیں۔ ان میں امریکہ، برطانیہ، جرمنی بطور خاص شامل ہیں۔
آئرلینڈ کی سینیٹ کی طرف سے کیے گئے اس مطالبے میں متفقہ طور پر یہ بھی کہا گیا ہے کہ یورپی یونین بین الاقوامی قوانین کی اسرائیل پر پابندی کروانے میں ناکام رہی ہے۔ جو دوہرے معیار اور منافقت کی عکاسی ہے۔
-
شمالی غزہ میں مزید دو اسرائیلی فوجی افسر ہلاک، فوج کی ہلاکتوں کی تعداد 242 ہو گئی
غزہ میں جاری لڑائی کے دوران مزید دو اسرائیلی فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد اب تک ...
مشرق وسطی -
فلسطین کی مشترکہ حکومت اورغزہ کی تعمیرنو،فتح اورحماس کےرہنما ماسکو میں ملاقات کریں گے
روس کے نائب وزیر خارجہ نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ فلسطینی جماعتوں کے رہنما ...
مشرق وسطی -
اسرائیل: غزہ جنگ کے باعث پارلیمانی فنانس کمیٹی کی 2024 کےبجٹ خسارے میں اضافےکی منظوری
اسرائیل میں غزہ جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والی مالیاتی مشکلات میں اضافے کو تسلیم ...
مشرق وسطی