اسرائیل میں غزہ جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والی مالیاتی مشکلات میں اضافے کو تسلیم کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی فنانس کمیٹی نے بدھ کے روز سال 2024 کے لیے بجٹ خسارے میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ فنانس کمیٹی کے اس فیصلے کی بعد ازاں اسرائیلی پارلیمان سے منظوری کا حصول ممکن ہو جائے گا۔
بجٹ خسارے میں اضافے کی اس منظوری کے نتیجے میں جی ڈی پی کی شرح کو 6۔6 فیصد کرنے کی تجویز منظور کر لی گئی ہے۔ اسرائیلی معیشت میں یہ منفی رد و بدل غزہ میں تقریباً پانچ ماہ سے جاری اسرائیلی جنگ بن رہی ہے۔
اسرائیلی جنگ ابھی حماس کے زیر کنٹرول غزہ میں اور اسرائیلی کی جنوبی سرحد کی طرف جزوی طور پر حزب اللہ کے ساتھ ہو رہی ہے۔ اگر اس جنگ کا دائرہ وسیع ہوتا تو اسرائیلی مالی مشکلات میں مزید اضافے کی اطلاعات کا خدشہ تھا۔
اگلے دنوں میں اسرائیلی فنانس کمیٹی نے جاری جنگ کے متاثرہ اسرائیلی شہریوں اور فوجیوں یا ان کے گھر والوں کے لیے معاوضے میں اضافہ بھی کیا ہے۔ علاوہ ازیں لبنانی سرحد کی طرف سے حزب اللہ کے حملوں کی وجہ سے متاثر ہونے والے کاروباروں کے متاثرین کو بھی امداد دی جائے گی نیز بے گھر ہو کر ہوٹلوں میں رہنے والوں کے اخراجات میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔
یہ ہزاروں اسرائیلی بتائے جاتے ہیں جو ان دنوں حزب اللہ کے راکٹوں کے خوف سے ہوٹلوں میں مقیم ہیں۔ فنانس کمیٹی کے بیان کے مطابق بجٹ خسارے کی سطح کا تخمینہ 19 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ یہ صورت حال جنگ کی وجہ سے دیکھنا پڑی ہے۔
واضح رہے اسرائیلی پارلیمنٹ نے ماہ فروری کے آغاز میں 2024 کے لیے ترمیمی بجٹ کی ابتدائی منظوری دی تھی ۔ اس میں 724 ارب شیکل کے قرضوں کی ادائیگی کی منظوری دی گئی۔
-
شمالی غزہ میں مزید دو اسرائیلی فوجی افسر ہلاک، فوج کی ہلاکتوں کی تعداد 242 ہو گئی
غزہ میں جاری لڑائی کے دوران مزید دو اسرائیلی فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد اب تک ...
مشرق وسطی -
ہم نے اسرائیل میں دو عسکری اہداف کو 40 میزائیلوں سے نشانہ بنایا: حماس
فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس نے بدھ کے روز دعویٰ کیا ہے کہ اس نے لبنان کے جنوبی علاقے ...
مشرق وسطی