جب اسرائیل اور امریکہ نے بے گھر فلسطینیوں سے بھرے شہر رفح پر حملہ کرنے کے متبادل طریقوں کا جائزہ لینا شروع کیا تو اس معاملے میں کچھ نئی پیش رفت بھی سامنے آئی ہے۔
ہم رفح میں داخل ہوں گے!
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اپنے سابقہ بیانات پھر دہرانے لگے ہیں انہوں نے حالیہ ایام میں جنوبی غزہ کی پٹی پر حملہ کرنے کے اپنے عزم کے حوالے سے جاری کیے تھے۔رفح میں فوجی کارروائی پر امریکہ نے خدشات کا اظہار کیا اورکوئی متبادلہ راستہ تلاش کیاجائے تاہم نیتن یاھو نے پھر کہا ہےکہ رفح میں آپریشن کا کوئی متبادل نہیں ہے۔
ان کا خیال تھا کہ اسرائیل کے پاس رفح میں آپریشن کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رفح میں موجود حماس کے عناصر کو ختم کرنا ضروری ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نے قانون سازوں کے سامنےبیان دیتے ہوئے اپنے اتحادی ملک امریکہ کی طرف سے اپنی قیادت کے خلاف بڑھتی ہوئی تنقید کو مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے اندر ایسی جماعتیں موجود ہیں جو حکومت کے خلاف امریکیوں کے ساتھ تعاون کر رہی ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ امریکیوں کے ساتھ تنازعہ واشنگٹن کی جانب سے ان کی حکومت پر تنقید کے بعد سامنے آیا جب انہوں نے فلسطینی ریاست کے قیام کو مسترد کر دیا تھا۔
یہ اسرائیل کو بڑی فوجی اور سفارتی مدد فراہم کرنے والے امریکہ کی جانب سے جنوبی غزہ کی پٹی کے شہر رفح پر منصوبہ اسرائیلی حملے کے بارے میں اپنے خدشات کا اظہار کرنے کے بعد سامنے آیا ہے جہاں تقریباً 1.4 ملین بے گھر فلسطینی پناہ لے رہے ہیں۔
قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے فاکس کو بتایا کہ امریکہ نے ابھی تک رفح کے حوالے سے کوئی اسرائیلی منصوبہ نہیں دیکھا۔
اس مسئلے کے بعد دونوں اتحادیوں کے درمیان تناؤ پیدا ہوا۔ وائٹ ہاؤس نے منگل کو اعلان کیا کہ ایک امریکی اور اسرائیلی ٹیم جلد ہی واشنگٹن میں ملاقات کرے گی، جس میں حماس کے ارکان کو نشانہ بنانے اور مصر کے ساتھ سرحد کو محفوظ بنانے کے متبادل طریقوں پر بات چیت کی جائے گی۔
انہوں نے ایک بیان میں یہ بھی کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے ایک بار پھر نیتن یاہو سے اسرائیل کی جانب سے زمینی کارروائی کے امکان پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
اس کے علاوہ دونوں فریقوں نے قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے حوالے سے قطر میں جاری مذاکرات کے علاوہ غزہ میں انسانی بحران پر بھی تبادلہ خیال کیا۔