ایک نئی پریس رپورٹ نے انکشاف کیا ہے کہ سابق امریکی صدر باراک اوباما بائیڈن کے ٹرمپ کے ہاتھوں ہارنے سے بہت خوفزدہ ہیں۔ اوباما ذاتی طور پر مداخلت کر رہے ہیں تاکہ بائیڈن کی مہم کو ٹرمپ کے ہاتھوں ممکنہ شکست سے بچایا جا سکے۔
جوں جوں انتخابات قریب آرہے ہیں صدربائیڈن سابق صدر باراک اوباما کے ساتھ مقابلے پراور خاندان کے بارے میں بات کرنے کے لیے باقاعدگی سے کال کر رہے ہیں۔ وہ وائٹ ہاؤس کے چیف آف سٹاف جیفری زیئنٹس اور اپنے سینئر معاونین کے ساتھ خود بھی رابطے کررہے ہیں۔
مصروفیت کی یہ سطح صدر بائیڈن کے لیے اوباما کی حمایت کو ظاہر کرتی ہے، لیکن اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے ایک سینیر معاون نے مسٹر اوباما کی گہری تشویش کو بھی ظاہر کیا۔ امریکی اخبار’دی نیویارک ٹائمز‘کے مطابق مسٹر بائیڈن سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہار سکتے ہیں۔
معاون جسے عوامی طور پر بولنے کا اختیار نہیں تھا نے کہا کہ اوباما بائیڈن کے ہارنے پر "ہمیشہ" فکر مند رہتے ہیں۔ امریکی نیو یارک ٹائمز کے مطابق معاون نے مزید کہا کہ وہ انتخابات میں اپنے سابق نائب کے ساتھ اس پر قابو پانے کے لیے تیار ہیں جن کا فیصلہ بہت کم ریاستوں میں کم مارجن سے کیا جا سکتا ہے۔
وہ جمعرات کو نیو یارک کے ریڈیو سٹی میوزک ہال میں بائیڈن کی مہم کے لیے ایک بڑے فنڈ ریزر میں سابق صدر بل کلنٹن کے ساتھ دکھائی دینے والے ہیں۔