امریکی طیارہ بردار بحری جہاز آئزن ہاور پر ’العربیہ‘ اور ’الحدث‘ چینلز کے نامہ نگار لیث بازاری امریکی ڈسٹرائر گروپ کے کمانڈر ڈیو رائے سے تازہ ترین پیش پر بات کی۔ انہوں نے نامہ نگار کو بتایا کہ امریکی بحریہ کے جنگی جہاز بحیرہ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کو سکیورٹی فراہم کررہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بحیرہ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے ساتھ امریکی ڈسٹرائرز بھی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈسٹرائر طیاروں کو "بہت پائیدار اور طیارہ بردار بحری جہازوں اور تجارتی ٹریفک کے دفاع میں ان کی صلاحیتیں بے مثال ہیں۔ ڈسٹرائر جہاز شکن میزائلوں، کروز میزائلوں، اور بیلسٹک میزائلوں کے خلاف مختلف سطحوں کی دفاعی صلاحیتیں فراہم کرتے ہیں"۔
البحرية الأميركية لـ #العربية: المدمرات الأميركية ترافق السفن التجارية في البحر الأحمر#اليمن pic.twitter.com/6F1DDaw8Gm
— العربية (@AlArabiya) April 1, 2024
انہوں نے ’العربیہ‘ اور ’الحدث‘ کو بتایا کہ "جب حوثیوں نے ہم پر حملہ کیا تو ہماری افواج نے ان کا پوری شدت کے ساتھ دفاع کیا۔ ہم نے یمن کے اندر سینٹرل کمانڈ کے ساتھ مل کر ان کی کارروائیوں کی حمایت کے لیے دفاعی حملے بھی کیے"۔
امریکہ اور برطانیہ نے حوثیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کی قیادت کی جس کا مقصد اس گروپ کی نیوی گیشن کی آزادی کو خطرے میں ڈالنے اور عالمی تجارت کو خطرے میں ڈالنے کی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔
حوثی گروپ نے بحیرہ احمر میں کئی بحری جہازوں پر حملے کیے۔ حوثیوں کا کہنا ہے کہ وہ حملے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جنگ کے جواب میں کر رہے ہیں۔
اتوار کی شام امریکی سینٹرل کمانڈ نے اطلاع دی کہ اس کی فورسز نے ہفتے کے روز یمن میں حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں دو ڈرونز کو تباہ کیا۔
انہوں نے ایک بیان میں مزید کہا کہ دو طیاروں میں سے ایک بحیرہ احمر کے اوپر تباہ کیا گیا تھا، جبکہ دوسرا لانچ ہونے سے پہلے زمین پر تباہ ہو گیا تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ حوثیوں کے دو فضائی نظام تجارتی جہازوں کے لیے خطرہ ہیں۔