مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافے،غزہ کی پٹی میں جاری جنگ کے دائرے کے ممکنہ پھیلاؤ اور دمشق میں ایرانی قونصل خانے پراسرائیلی حملے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورت حال پرعالمی سطح پر تشویش پائی جا رہی ہے۔
جرمن وزیر خارجہ اینالینا بیربوک نے اپنے ایرانی ہم منصب سے فون پر بات کرتے ہوئے زور دیا کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدہ صورتحال کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔
برلن وزارت خارجہ کے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر جمعرات کو شائع ایک بیان میں انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ ذمہ داری اور تحمل سے کام لیں۔
تحمل سے کام لینے پر زور
دوسری طرف تہران کی جانب سے تل ابیب کے خلاف نئی دھمکیوں کے بعد ماسکو نے ایران اور اسرائیل سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے آج اخباری بیانات میں صحافیوں کو بتایا کہ "پہلے سے غیر مستحکم خطے کو غیر مستحکم کرنے سے بچنے کے لیے ہر ایک کے لیے تحمل کا مظاہرہ کرنا بہت ضروری ہے"۔
تمام منظرناموں کے لیے تیار ہیں
یہ انتباہات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے زور دے کر کہا ہے کہ ان کا ملک کسی بھی طرح کے منظرناموں کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے جنوبی اسرائیل میں ایک فضائی اڈے کے دورے کے بعد ایک بیان میں کہا کہ ’’ہم دفاعی اور جارحیت دونوں صورتوں میں اسرائیل کی سلامتی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تیار ہیں‘‘۔
انہوں نے زور دیا کہ ان کا ملک ہر اس شخص پر حملہ کرے گا اور اسے نقصان پہنچائے گا جس سے اسرائیل کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو۔
ایرانی رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای نے کل بدھ کو اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل کو ایران کے قونصل خانے پر حملہ کرنے پر "سزا ملے گی"۔
-
"انسانی بنیادوں پر امداد کی ترسیل ، اسرائیل پر پابندیاں لگانے کا فوری پروگرام نہیں"
فرانس کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ فرانس کا ایسا کوئی فوری ارادہ نہیں ہے کہ اسرائیل ...
بين الاقوامى -
اقوام متحدہ اور اسرائیل میں غزہ پہنچنے والے امدادہ ٹرکوں کی تعداد پر اختلاف
اسرائیل نے اقوام متحدہ پر الزام لگایا ہے کہ اقوام متحدہ غزہ میں داخل ہونے والے ...
مشرق وسطی -
یورو ویژن میں اسرائیلی شرکت کے خلاف مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے
بدھ کے روز یورو ویژن گانوں کے مقابلے کے میزبان اسرائیل کے بائیکاٹ کا ایک بار پھر ...
مشرق وسطی